اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد معروف یوٹیوبر اور بیرونِ ملک مقیم صحافی معید پیرزادہ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شروع کیے گئے ایک متنازع پول نے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مذکورہ پول میں حملے کو بھارت اور افغانستان کی مداخلت کے بجائے 8 فروری کے متوقع احتجاج سے قبل مبینہ ’’اندرونی سیاست‘‘ سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، جس پر سیاسی، دفاعی اور صحافتی حلقوں میں شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
معروف یوٹیوبر اور بیرونِ ملک مقیم صحافی معید پیرزادہ نے اسلام آباد امام بارگاہ حملے کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک متنازع پول شروع کیا ہے، جس میں انہوں نے اس دہشت گردانہ حملے کو بھارت اور افغانستان کی مداخلت کے بجائے 8 فروری کے احتجاج سے قبل 'اندرونی سیاست' سے… pic.twitter.com/C6Gsz6h5zM
— HTN Urdu (@htnurdu) February 7, 2026
ذرائع کے مطابق یہ پول ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت خود متعدد مواقع پر پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کے اعترافات کر چکا ہے، جبکہ پاکستانی حکام کے پاس حالیہ دہشت گرد حملوں میں بھارت اور افغانستان میں موجود عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پس منظر میں حملے کو اندرونی سیاسی معاملات سے جوڑنا نہ صرف حقائق سے انحراف ہے بلکہ ریاستی مؤقف کو کمزور کرنے کے مترادف بھی ہے۔
سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونِ ملک بیٹھ کر ایسے حساس معاملات پر قیاس آرائیوں اور پولز کے ذریعے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش دراصل دشمن ریاستوں کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب پاکستان طویل عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہو اور اس کے شواہد عالمی فورمز پر بھی پیش کیے جا چکے ہوں، تو ایسے سوالات اور پولز دشمن عناصر کے لیے بالواسطہ سہولت کاری کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔
ماہرین نے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ دہشت گردی جیسے سنگین قومی سلامتی کے معاملات کو سوشل میڈیا پولز کے ذریعے متنازع بنانا عوامی ذہنوں میں ابہام پیدا کرتا ہے اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ان کے مطابق ذمہ دار صحافت اور رائے سازی کا تقاضا ہے کہ ایسے واقعات پر ریاستی اداروں کی تحقیقات اور دستیاب شواہد کو مدنظر رکھا جائے، نہ کہ غیر مصدقہ قیاس آرائیوں کے ذریعے اندرونی انتشار کو ہوا دی جائے۔