ترک نمائندے نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترکی دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیش رفت کیلئے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

April 12, 2026

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تنقید کا بڑا حصہ ایسے اکاؤنٹس سے منسلک بتایا جا رہا ہے جو حکومتی بیانیے کے قریب سمجھے جاتے ہیں

April 12, 2026

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 9 وکٹوں کے نقصان پر 153 رنز بنائے۔ ڈیوون کونوے 45 اور مارک چیپمین 42 رنز کے ساتھ نمایاں رہے

April 12, 2026

سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ پیش رفت سرحد پار دہشتگردی کے روابط کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ پاکستان بارہا افغان سرزمین کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے افغان حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔

April 12, 2026

خطے میں جاری تبدیلیوں اور چین کے شہر ارومچی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق دونوں فریقین نے علاقائی استحکام اور سفارتی روابط کو مزید بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔

April 12, 2026

امریکی صدر ٹرمپ کا بیان فیصلہ کن ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی واحد وجہ ایران کا جوہری پروگرام پر مؤقف تھا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، مگر ایران نے جوہری معاملے پر کوئی لچک نہیں دکھائی، جس کے باعث حتمی معاہدہ ممکن نہ ہو سکا۔

April 12, 2026

اسلام آباد میں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی سے متعلق اہم اجلاس، سہیل آفریدی شریک نہ ہوئے

اجلاس کو بتایا گیا کہ 16 اکتوبر 2025 تک پاکستان میں مقیم 14 لاکھ 77 ہزار 592 افغان شہریوں کی وطن واپسی مکمل کی جا چکی ہے۔ یہ عمل مرحلہ وار جاری ہے اور کسی بھی غیر قانونی افغان باشندے کو مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد میں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی سے متعلق اہم اجلاس، سہیل آفریدی شریک نہ ہوئے

یاد رہے کہ اجلاس کے دوران سہیل آفریدی اسلام آباد ہی میں موجود تھے مگر پھر بھی وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

October 17, 2025

زیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف، وفاقی وزراء، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ سمیت اعلیٰ حکومتی و عسکری حکام نے شرکت کی۔ تاہم، خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور اپنی نمائندگی مزمل اسلم کو سونپی۔

اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم نے شرکاء کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے، اور وفاقی حکومت اس صوبے کے عوام کی فلاح و ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ روز اُنہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے ٹیلی فونک گفتگو کی، انہیں مبارکباد دی اور وفاق کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں میں افغانستان کی ہر مشکل گھڑی میں مدد کی، مگر افسوس ہے کہ آج افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے سفارتی و سیاسی ذرائع سے افغان حکومت کو متعدد بار آگاہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عوام جنہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قربانیاں دی ہیں، اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ حکومت کب تک افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کرے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 16 اکتوبر 2025 تک پاکستان میں مقیم 14 لاکھ 77 ہزار 592 افغان شہریوں کی وطن واپسی مکمل کی جا چکی ہے۔ یہ عمل مرحلہ وار جاری ہے اور کسی بھی غیر قانونی افغان باشندے کو مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔ صرف وہی افغان شہری پاکستان میں قیام کرسکیں گے جن کے پاس قانونی ویزہ ہوگا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ افغان سرحد پر ایگزٹ پوائنٹس کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے تاکہ وطن واپسی کا عمل تیز اور منظم بنایا جا سکے۔

وزیراعظم نے واضح ہدایت دی کہ غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے دوران بزرگوں، خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ پیش آیا جائے۔ اجلاس کے شرکاء نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اُن کی قیادت میں پاکستان نے افغانستان کے حالیہ حملے کا بھرپور جواب دیا اور ملکی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنایا۔

اجلاس کے اختتام پر فورم نے فیصلہ کیا کہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے پیش کردہ تمام سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا، جبکہ صوبوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اس عمل میں وفاقی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون کریں۔

ذرائع کے مطابق، اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی غیر حاضری پر وزیراعظم آفس کے حلقوں نے افسوس کا اظہار کیا اور اسے “غیر سنجیدگی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کے بجائے محض سیاسی بیانات دینا “ریاستی معاملات پر سیاست کرنے” کے مترادف ہے۔ یاد رہے کہ اجلاس کے دوران سہیل آفریدی اسلام آباد ہی میں موجود تھے مگر پھر بھی وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

دیکھیں: خیبر پختونخوا میں مزید افغان مہاجر کیمپ بند، تعداد 42 ہوگئی

متعلقہ مضامین

ترک نمائندے نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترکی دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیش رفت کیلئے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

April 12, 2026

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تنقید کا بڑا حصہ ایسے اکاؤنٹس سے منسلک بتایا جا رہا ہے جو حکومتی بیانیے کے قریب سمجھے جاتے ہیں

April 12, 2026

نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 9 وکٹوں کے نقصان پر 153 رنز بنائے۔ ڈیوون کونوے 45 اور مارک چیپمین 42 رنز کے ساتھ نمایاں رہے

April 12, 2026

سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ پیش رفت سرحد پار دہشتگردی کے روابط کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ پاکستان بارہا افغان سرزمین کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے افغان حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔

April 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *