افغانستان کے عبوری وزیرِ دفاع ملا یعقوب نے حالیہ انٹرویو میں پاکستان کے خلاف انتہائی سخت اور اشتعال انگیز لہجہ اختیار کیا ہے۔ طلوع نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دھمکی دی کہ اگر کابل کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا بھرپور جواب اسلام آباد میں دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان جنگ کا خواہش مند نہیں ہے، تاہم اگر ان پر جنگ مسلط کی گئی تو افغان فورسز طویل عرصے تک لڑنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ ملا یعقوب نے دعویٰ کیا کہ ایک افغان شہری کی ہلاکت کے بدلے میں افغان فورسز نے پاکستانی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔
ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانے
دہشت گرد گروہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حوالے سے پاکستان کے مسلسل اور جائز مطالبات کو ملا یعقوب نے غیر حقیقی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے بارہا شواہد فراہم کیے جا چکے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں رکھتے ہیں اور وہیں سے سرحد پار کارروائیاں کرتے ہیں۔
پاکستانی جوابی کاروائی
ملا یعقوب کے ان بلند بانگ دعوؤں کے برعکس زمینی حقائق افغان فورسز کی بڑی ناکامی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی موثر جوابی کارروائی میں افغان فورسز کے 500 سے زائد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں اور درجنوں مقامات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس آپریشن کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کے کئی اہم کمانڈر ہلاک اور ان کے اسٹرٹیجک ٹھکانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تاریخی ہزیمت کے بعد ملا یعقوب کے بیانات محض کھوکھلے دعوؤں اور اپنی ناکامی چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔
عالمی تشویش
اقوام متحدہ سمیت متعدد عالمی ادارے اپنی رپورٹوں میں بارہا اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گردانہ سرگرمیوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کے تحفظات کے باوجود افغان حکام کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی نہ کرنا خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ملا یعقوب کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغانستان اب بھی اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، جو خود افغانستان اور پورے خطے کی سلامتی کے لیے تشویشناک ہے۔