"> ممبئی میں عیدالاضحیٰ کے بکروں پر تنازع اور فرقہ وارانہ کشیدگی
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ممبئی میں عید کے بکروں پر تنازع: بھارت کے سیکولر دعوے بے نقاب

ممبئی کی ایک رہائشی سوسائٹی میں قربانی کے بکرے رکھنے پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جسے مبصرین بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
بھارت کے شہر ممبئی کی ایک رہائشی سوسائٹی میں عیدالاضحیٰ سے قبل قربانی کے بکرے رکھنے پر شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جسے مبصرین مودی سرکار کے دور میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور مسلم مخالف پولرائزیشن کا عکاس قرار دے رہے ہیں۔

ممبئی کی ہاؤسنگ سوسائٹی میں عیدالاضحیٰ کے بکروں پر ہندو رہائشیوں کا شدید احتجاج۔ ماہرین نے مسلم شعائر کو مسلسل نشانہ بنانے کے عمل کو بھارت کے سیکولر تشخص کی پامالی اور خطرناک فرقہ وارانہ تقسیم قرار دے دیا۔

May 28, 2026

بھارت کے شہر ممبئی کی ایک رہائشی سوسائٹی میں عیدالاضحیٰ کے مقدس تہوار سے قبل قربانی کے لیے رکھے گئے بکروں پر شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ بھارتی میڈیا نیٹ ورک انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ممبئی کے علاقے ڈنڈوشی میں واقع میری گولڈ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں عید کی تیاریوں کے سلسلے میں قائم ایک عارضی شیڈ میں 12 بکرے رکھے گئے تھے، جس پر سوسائٹی کے مقامی ہندو رہائشیوں نے شدید احتجاج شروع کر دیا، جس کے بعد مقامی سیاسی رہنماؤں نے بھی معاملے میں مداخلت کی ہے۔

انتہا پسندی

اس واقعے پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران بڑھتی ہوئی انتہا پسندی، عدم برداشت اور انتہا پسندی کی وجہ سے مسلمانوں کا روایتی و مذہبی تہوار اب ایک باقاعدہ فرقہ وارانہ فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ معمولی نوعیت کے امور کو بھی مسلم مخالفت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس سے معاشرتی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

مسلم شعائر

ناقدین کے مطابق مودی حکومت کے زیرِ اثر بھارت میں مسلمانوں کو ان کے مذہبی عقائد کے تحت قربانی کے جانور رکھنے، خریدنے یا ان کی تجارت کرنے پر مختلف حیلوں بہانوں سے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کی مسلم دشمن پالیسیاں ملک کو تیزی سے اندرونی عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہیں جہاں اقلیتوں کے حقوق اور جان و مال کو غیر محفوظ بنا دیا گیا ہے۔

سیکولر دعوے؟

سیاسی و سماجی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت میں کبھی حجاب، کبھی مساجد، کبھی حلال کھانے کی مصنوعات اور کبھی عیدالاضحیٰ جیسے مسلم شعائر کو بار بار باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ متعصبانہ طرزِ عمل نئی دہلی کے بین الاقوامی سطح پر کیے جانے والے آئینی اور سیکولر دعووں کو بری طرح پامال کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں بھارتی معاشرہ ایک انتہائی خطرناک اور نہ ختم ہونے والی فرقہ وارانہ تقسیم کا شکار ہو رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *