"> اسرائیلی سزائے موت قانون مسترد: پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا مشترکہ اعلامیہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

اسرائیلی سزائے موت قانون مسترد: پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا مشترکہ اعلامیہ

پاکستان سمیت آٹھ اہم اسلامی ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کے اسرائیلی قانون کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ نسل پرستانہ اقدام خطے میں تشدد کی نئی لہر اور عدم استحکام کا باعث بنے گا
پاکستان سمیت آٹھ اہم اسلامی ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کے اسرائیلی قانون کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ نسل پرستانہ اقدام خطے میں تشدد کی نئی لہر اور عدم استحکام کا باعث بنے گا

پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کا مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کے اسرائیلی قانون کے خلاف مشترکہ اعلامیہ

April 2, 2026

پاکستان سمیت آٹھ اہم اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف سزائے موت کے نفاذ سے متعلق اسرائیلی قانون کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس مشترکہ بیان میں، جس میں پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی یہ حالیہ قانون سازی بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے یہ امتیازی اقدامات ‘اپارتھائیڈ’ (نسل پرستانہ) نظام کو مزید تقویت دے رہے ہیں، جس کا مقصد فلسطینیوں کے بنیادی حقوق اور ان کے وجود کو مٹانا ہے۔ وزرائے خارجہ نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ اس طرح کی قانون سازی سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی، جس سے نہ صرف علاقائی امن داؤ پر لگ جائے گا بلکہ اسرائیلی قید میں موجود فلسطینیوں کی حالتِ زار مزید ابتر ہو جائے گی۔

پاکستان نے اس ضمن میں اپنے دوٹوک مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت کا قانون ایک خطرناک پیش رفت ہے جو قیامِ امن کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان نے خود کو ایک مربوط مسلم اور علاقائی سفارتی بلاک کے حصے کے طور پر پیش کرتے ہوئے اسرائیل کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف اجتماعی مزاحمت اور کثیر الجہتی قانونی جواز کو تقویت دی ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اسرائیلی قانون سازی انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ عالمی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کے اس اقدام کا محاسبہ کرے اور مقبوضہ علاقوں میں شہریوں اور قیدیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھائے۔ یہ مشترکہ اعلامیہ فلسطینیوں کے خلاف جاری مظالم کے خلاف اسلامی دنیا کے متحد بیانیے کی عکاسی کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *