"> خیبر پختونخوا میں امن کے لیے ایمرجنسی ضروری ہے، مصطفیٰ کمال
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

خیبر پختونخوا میں قیامِ امن کے لیے ایمرجنسی ضروری ہے، مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بہتری، دہشت گردی کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔
مصطفیٰ کمال اور خیبر پختونخوا

مصطفیٰ کمال نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے، امن و امان کی بہتری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ پر زور دیا ہے۔

October 13, 2026

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایمرجنسی کے نفاذ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن کی بحالی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ضروری ہے۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق شہریوں کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایسی حکمت عملی اپنانا ضروری ہے جو سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کو مؤثر بنائے اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرے۔

وفاقی وزیر صحت نے دہشت گردی کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی اپنانے اور قومی سلامتی کو ترجیح دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق ایمرجنسی کا نفاذ صوبے میں امن کی بحالی کے لیے حکومتی اور انتظامی کوششوں کو مؤثر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ قانون کی عمل داری یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ عوام کا اعتماد بحال کرنے اور روزمرہ زندگی معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

مشترکہ حکمت عملی

مصطفیٰ کمال کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اداروں اور متعلقہ حکام کے درمیان رابطہ اور تعاون اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بہتری کے لیے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ انتظامی بہتری اور عوامی تعاون بھی ضروری ہے۔

انہوں نے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ صوبے میں امن قائم ہونے سے تعلیم، صحت، کاروبار اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ایمرجنسی کے لیے آئینی تقاضے

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ آئینی اور قانونی تقاضوں سے جڑا ہے۔ اس لیے کسی بھی فیصلے میں متعلقہ آئینی دفعات، مجاز حکام کے اختیارات اور قانونی طریقہ کار کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے صوبے سمیت پورے پاکستان میں امن کے قیام اور دہشت گردی کے مؤثر مقابلے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم، ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق کسی حتمی فیصلے یا سرکاری اعلان کی تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *