بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ کاروائیوں کی تحقیقات میں مصروف اداروں نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ زیرِ حراست نبیل ارمان کوئی سادہ طالب علم نہیں بلکہ ان کے روابط کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے اعلیٰ ترین حلقوں سے رہے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق نبیل ارمان بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) آزاد کے سابق صدر رہ چکے ہیں اور مبینہ طور پر بی ایل اے کے لیے آن لائن بھرتیوں کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
تحقیقاتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نبیل ارمان بی ایل اے کے میڈیا ونگ سے بھی وابستہ رہے اور ایک بدنام زمانہ بی ایل اے کمانڈر کے نہایت قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ حساس نوعیت کی تحقیقات کے باعث مذکورہ کمانڈر کا نام فی الوقت صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کے پیچھے موجود پورے نیٹ ورک کو جلد بے نقاب کر دیا جائے گا، جس سے یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ان کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ کون تھا، منصوبہ بندی کس نے کی اور پروپیگنڈا مواد کس نے شائع کیا۔
قانونی اور سیکیورٹی حلقوں نے اس موقف پر زور دیا ہے کہ نبیل ارمان کو محض ایک ‘عام طالب علم’ قرار دے کر ان کے حق میں مہم چلانا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی” اور انسانی حقوق کی آڑ میں آواز اٹھانے والوں کو چاہیے کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے اور تمام حقائق سامنے آنے تک انتظار کریں۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نبیل ارمان سے ہونے والی تفتیش کے نتیجے میں بی ایل اے کے ڈیجیٹل نیٹ ورک اور تعلیمی اداروں میں موجود ان کے سہولت کاروں کے حوالے سے مزید بڑے انکشافات متوقع ہیں۔