ایران پر حالیہ اسرائیلی فضائی حملے کے بعد عالمی منظر نامے پر ایک نئی سیاسی اور نظریاتی بحث چھڑ گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین کے ایک مخصوص حلقے کی جانب سے یہ بیانیہ شدت کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا حالیہ دورہ اسرائیل محض ایک سفارتی دورہ نہیں تھا بلکہ یہ مسلمانوں کے خلاف ایک مشترکہ ‘یہودی اور ہندو محاذ’ کی تشکیل کا واضح مظہر تھا۔ اس بیانیے کے مطابق ایران پر حالیہ حملہ اسی اسٹریٹجک شراکت داری کا شاخسانہ ہے جو نئی دہلی اور تل ابیب کے درمیان پسِ پردہ طے پائی تھی۔
اس نظریاتی تشریح میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ دراصل خطے کی مسلم ریاستوں، بالخصوص ایران کو غیر مستحکم کرنے کی ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی اور نیتن یاہو کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتوں کا مقصد ایک ایسا تزویراتی توازن پیدا کرنا ہے جو مسلم دنیا کے مفادات کے خلاف ہو، اور ایران پر حالیہ بمباری اس اتحاد کے عملی نفاذ کی پہلی بڑی مثال بن کر سامنے آئی ہے۔
تاہم اس بیانیے کو عالمی سفارتی حلقوں میں ایک مخصوص نظریاتی نقطہ نظر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور آزاد مبصرین کا موقف ہے کہ ایران اور اسرائیل کی دشمنی کئی دہائیوں پر محیط ہے اور اسے محض ایک حالیہ دورے سے جوڑنا حقائق کی سادہ تشریح ہو سکتی ہے۔ سرکاری سطح پر ابھی تک ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے جو ایران پر ہونے والے حملے میں بھارت کے براہِ راست ملوث ہونے یا اس مخصوص ‘محاذ’ کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوں۔
اس کے باوجود مسلم دنیا اور سوشل میڈیا پر اس بیانیے کو خاصی پذیرائی مل رہی ہے، جہاں اسے خطے میں بڑھتے ہوئے سامراجی اور صیہونی اثر و رسوخ کے خلاف ایک انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، اگرچہ اس اتحاد کی کوئی باضابطہ دستاویز موجود نہیں، لیکن اسرائیل اور بھارت کے درمیان حالیہ برسوں میں ہونے والے اربوں ڈالرز کے دفاعی معاہدے اس قسم کے شکوک و شبہات کو تقویت دے رہے ہیں۔