امریکہ کے خلائی ادارے کی جانب سے چاند کے گرد انسانی مشن کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت چار خلا باز کامیابی کے ساتھ روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ مشن تقریباً دس دن پر محیط ہوگا اور اس دوران خلائی جہاز چاند کے گرد چکر لگائے گا۔ اس تاریخی پرواز کا آغاز فلوریڈا میں قائم خلائی مرکز سے کیا گیا، جہاں سے طاقتور راکٹ نے خلائی جہاز کو زمین کے مدار میں پہنچایا۔ اس مشن میں تین امریکی اور ایک کینیڈین خلا باز شامل ہیں، جو کئی دہائیوں بعد چاند کے قریب پہنچنے والے پہلے انسان ہوں گے۔
خلائی جہاز اس وقت زمین کے گرد مدار میں گردش کر رہا ہے جہاں مختلف تکنیکی نظاموں کی جانچ جاری ہے۔ اگر تمام نظام درست کام کرتے رہے تو اگلے مرحلے میں جہاز کو چاند کی طرف روانہ کیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں خلا بازوں نے جہاز کو خود چلانے کی مشق بھی کی، جسے آئندہ مشنز کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دوران جہاز میں موجود کچھ معمولی مسائل بھی سامنے آئے، جن میں بیت الخلا کا مسئلہ شامل تھا، تاہم ماہرین نے اسے جلد ہی حل کر لیا۔

مشن کے دوران چھوٹے سیارچے نما آلات بھی خلا میں چھوڑے جائیں گے، جو خلا کے خطرناک ماحول، شعاعوں اور شمسی اثرات کا جائزہ لیں گے۔ یہ معلومات مستقبل کے چاندی اور دیگر خلائی مشنز کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ مشن نہ صرف انسانی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے بلکہ اس سے مستقبل میں چاند پر مستقل موجودگی اور مزید دور دراز خلائی سفر کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
یہ مشن اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ آخری بار انسان نے تقریباً پچاس سال قبل چاند کا سفر کیا تھا۔ اب ایک بار پھر انسان خلا کی وسعتوں میں مزید آگے بڑھنے کی تیاری کر رہا ہے، اور یہ مشن اسی سلسلے کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔