مہاجر قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین آفاق احمد نے نئے انتظامی یونٹس اور جنوبی سندھ صوبے کے قیام کے مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اختیارات کی منصفانہ تقسیم کے لیے نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وہ ماضی کی طرح آج بھی اپنے اس مؤقف پر پوری مضبوطی سے قائم ہیں۔
شاہ فیصل ٹاؤن میں منعقدہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی سندھ صوبے کے لیے ماضی میں دستخطی مہم بھی چلائی گئی تھی۔ اس وقت اس موضوع پر بات کرنا بھی جرم سمجھا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی حدود کی ازسرنو تشکیل عوام کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ ملک کا مستقبل چند خاندان نہیں بلکہ عوام طے کریں گے۔
نئے صوبے اور موثر گورننس
آفاق احمد کا کہنا تھا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس بنائے بغیر وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن نہیں۔ موجودہ ڈھانچہ عوام کو بنیادی حقوق دینے میں ناکام ہو چکا ہے۔ جب تک انتظامی اکائیاں چھوٹی نہیں ہوں گی، تعلیم، صحت، پانی اور روزگار کی فراہمی کا نظام درست نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے انتخابی اور سیاسی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شفاف انتخابات کے ذریعے ہی اصل قیادت سامنے آ سکتی ہے۔ حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ جب عوام کو یقین ہوگا کہ نئے انتظامی ڈھانچے سے ان کے مسائل حل ہوں گے، تو سیاسی اور انتخابی عمل پر عوامی اعتماد بحال ہوگا۔
وسائل کی تقسیم
انہوں نے کراچی کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں بدامنی، حادثات اور بنیادی سہولیات کا فقدان وسائل کے نامناسب انتظام کا نتیجہ ہے۔ کراچی کے دکھ درد کا احساس کسی سطح پر نظر نہیں آتا۔ انہوں نے محصورینِ مشرقی پاکستان کی وطن واپسی اور مہاجر برادری کو روزگار میں جائز حق دینے کا مطالبہ بھی کیا۔
سندھ کے موجودہ بلدیاتی نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کو بااختیار بنائے بغیر شہری مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ صوبائی سطح پر اختیارات کے ارتکاز نے بڑے شہروں کا نظام مفلوج کر دیا ہے۔ اسی لیے نئے یونٹس اور خود مختار بلدیاتی ادارے ضروری ہیں۔
مساوی حقوق
تقریب سے خطاب میں انہوں نے خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ نئے انتظامی اور معاشرتی ڈھانچے میں خواتین کی شمولیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ خواتین کے خلاف گھریلو تشدد اور امتیازی سلوک کا خاتمہ ضروری ہے۔
انہوں نے آبادی کے تناسب سے تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے لیے کوٹہ مختص کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بااختیار اور فعال خواتین ہی مستقبل کی پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتی ہیں۔