افغانستان کے نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر نے افغان صنعت کاروں اور تاجروں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر پاکستان پر انحصار ختم کرتے ہوئے متبادل تجارتی راستے تلاش کریں۔
کابل میں صنعت کاروں اور تاجروں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران ملا برادر نے واضح کیا کہ جو تاجر آئندہ بھی پاکستان کے راستے برآمدات یا درآمدات جاری رکھیں گے، انہیں مستقبل میں کسی قسم کی مشکلات پیش آنے پر اسلامی امارت کی جانب سے کوئی مدد یا تعاون فراہم نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ “آج کے بعد تمام تاجر پاکستان کے بجائے دیگر ممالک کو تجارت کے لیے متبادل راستے کے طور پر منتخب کریں۔ اگر کسی تاجر کو پاکستان میں کسی مسئلے یا رکاوٹ کا سامنا ہوا تو افغان حکومت نہ اس کی شکایت سنے گی اور نہ ہی اس کا مسئلہ حل کرے گی۔”
ذرائع کے مطابق افغان حکومت اس وقت وسطی ایشیائی ممالک، ایران اور ترکی کے ذریعے نئی تجارتی راہیں کھولنے پر غور کر رہی ہے تاکہ پاکستان پر تجارتی انحصار میں کمی لائی جا سکے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی کابل اور اسلام آباد کے درمیان حالیہ کشیدگی اور سرحدی پابندیوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جس سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ہاد رہے کہ افغانستان کی تجارت کا دارومدار 70 فیصد تک پاکستان پر ہے اور بارڈرز کی بندش سے روزانہ اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔