مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی عالمی سطح پر پذیرائی، ازبکستان کا پاکستان کی قیادت اور دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہار
جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور میزائل حملوں کی اطلاعات کے باوجود اسلام آباد مذاکرات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے؛ تمام شرکاء نے شرکت کی یقین دہانی کروا دی ہے اور انتظامیہ نے سکیورٹی کے حتمی اقدامات مکمل کر لیے ہیں
آج پاکستان ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں قبضہ زمین پر نہیں بلکہ ذہن، ڈیٹا اور بیانیے پر ہو رہا ہے، مگر افسوس کی بات یہ کہ پاکستان میں اس حوالے سے کوئی بحث و مباحثہ تک دیکھنے میں نہیں آ رہا کجا کوئی سنجیدہ اقدام کئے جائیں۔
ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں امریکہ نے اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس کی قیادت نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور کشنر بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔
دنیا لبنان میں جاری “قتل عام” دیکھ رہی ہے اور اگر جنگ بندی حقیقی ہے تو اس کا اطلاق ہر جگہ ہونا چاہیے، بالخصوص لبنان میں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے اور عالمی برادری اس کے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔