"> ایران نے امریکا کو وارننگ دے دی: بیک وقت سیز فائر اور اسرائیلی حملے ممکن نہیں؛ لبنان صورتحال پر سخت مؤقف - HTN Urdu ایران نے امریکا کو وارننگ دے دی: بیک وقت سیز فائر اور اسرائیلی حملے ممکن نہیں؛ لبنان صورتحال پر سخت مؤقف
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ایران نے امریکا کو وارننگ دے دی: بیک وقت سیز فائر اور اسرائیلی حملے ممکن نہیں؛ لبنان صورتحال پر سخت مؤقف

دنیا لبنان میں جاری “قتل عام” دیکھ رہی ہے اور اگر جنگ بندی حقیقی ہے تو اس کا اطلاق ہر جگہ ہونا چاہیے، بالخصوص لبنان میں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے اور عالمی برادری اس کے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا لبنان پر حملوں پہ سخت موقف

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جس میں پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔

April 8, 2026

اسلام آباد/تہران/واشنگٹن: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وزیراعظم شہباز شریف کے جنگ بندی اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ جاری رکھے گا، دونوں راستے ایک ساتھ ممکن نہیں۔

عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا لبنان میں جاری “قتل عام” دیکھ رہی ہے اور اگر جنگ بندی حقیقی ہے تو اس کا اطلاق ہر جگہ ہونا چاہیے، بالخصوص لبنان میں۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے اور عالمی برادری اس کے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، جس میں پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے سے اس معاہدے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ ایران اور بعض دیگر فریقین کا کہنا ہے کہ لبنان کو بھی اس میں شامل ہونا چاہیے۔

اسی دوران اسرائیلی حملوں میں بیروت اور دیگر علاقوں میں درجنوں افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں، جس پر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان میں حملے جاری رہے تو جنگ بندی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ بندی کا مستقبل براہ راست اسرائیل کی کارروائیوں اور امریکا کے ردعمل سے جڑا ہوا ہے، جبکہ پاکستان کی میزبانی میں متوقع “اسلام آباد مذاکرات” اس کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اصل چیلنج صرف جنگ بندی کا اعلان نہیں بلکہ اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانا ہے، ورنہ خطہ ایک بار پھر بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔

دیکھئیے:کوئی پاگل ہی ہو گا جو اس کامیابی پر خوش نہ ہو، حکومت کیساتھ ہیں، پاکستان اور پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی، محمود اچکزئی

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *