ماہرین کے مطابق 7 ارب ڈالر کا یہ ریلوے منصوبہ وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط کرے گا۔ قازقستان جیسے توانائی اور معدنی وسائل سے مالا مال ملک کے لیے یہ راہداری تیل، گیس، گندم اور دیگر اشیاء کی برآمدات کو آسان بنا سکتی ہے، جبکہ پاکستان کو ٹرانزٹ فیس، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع حاصل ہوں گے۔