آج مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل صرف واشنگٹن یا تل ابیب میں نہیں بلکہ اسلام آباد، انقرہ اور تہران جیسے دارالحکومتوں میں بھی طے ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور بیشتر خلیجی ممالک کا (سوائے یو اے ای) امریکی اڈوں سے فاصلہ رکھنا ایک بڑی سفارتی تبدیلی ہے۔ اگر مسلم دنیا اسرائیل کے اس غیر مرئی محاصرے کو بروقت نہ سمجھ سکی تو خطے کا امن طویل عرصے کے لیے خاکستر ہو سکتا ہے۔