بعد ازاں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد نے ترلائی کا بھی دورہ کیا، جہاں علما اور مشائخ نے خودکش دھماکے میں شہید ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی، ان کے لیے دعائے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی۔ وفد نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

February 7, 2026

سکیورٹی نظام عموماً غیر معمولی یا گھبرائے ہوئے رویے پر ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ خودکش حملہ آور اسی نفسیاتی حقیقت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کے لیے واحد مقصد آخری ہدف کا حصول ہوتا ہے۔ اس مقصد کے سامنے ہر خطرہ، ہر رکاوٹ اور ہر ممکنہ انجام ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔

February 7, 2026

بلوچستان حکومت نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کا یہ ماڈل صرف عسکری کارروائی تک محدود نہیں بلکہ قانون، ادارہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل شفافیت اور انتہا پسندی کے تدارک پر مبنی ایک جامع حکمت عملی ہے، جو دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بنے گی۔

February 7, 2026

حالیہ دنوں میں بلوچستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں ماہرین اس مقدمے کو محض ایک عدالتی کارروائی نہیں بلکہ دہشت گردی کے ہمدردوں کے خلاف ریاستی عزم کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست نے واضح فیصلہ کر لیا ہے کہ دہشت گردی یا اس کی فکری، اخلاقی یا بیانیاتی حمایت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

February 7, 2026

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پوسٹ تجارتی اور معاشی پیغام رسانی کے تناظر میں کی گئی، تاہم سرکاری نوعیت کے بصری مواد میں جغرافیائی تنازعات کو نظرانداز کرنا غیر ارادی طور پر سیاسی اور سفارتی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں نقشوں اور علامتی نمائندگی کو خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں ایسی تفصیلات غلط فہمیوں کو جنم دے سکتی ہیں۔

February 7, 2026

سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونِ ملک بیٹھ کر ایسے حساس معاملات پر قیاس آرائیوں اور پولز کے ذریعے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش دراصل دشمن ریاستوں کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب پاکستان طویل عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہو اور اس کے شواہد عالمی فورمز پر بھی پیش کیے جا چکے ہوں، تو ایسے سوالات اور پولز دشمن عناصر کے لیے بالواسطہ سہولت کاری کے مترادف سمجھے جاتے ہیں۔

February 7, 2026

افغانستان کا ایس سی او کے اجلاس میں عدمِ شرکت کا فیصلہ

اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اقتصادی تعاون تنظیم کے وزراء کی دسویں کانفرنس میں امارتِ اسلامیہ افغانستان نے عدمِ شرکت کا فیصلہ کیا، حالانکہ انہیں باقاعدہ دعوت دی گئی تھی
اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اقتصادی تعاون تنظیم کے وزراء کی دسویں کانفرنس میں امارتِ اسلامیہ افغانستان نے عدمِ شرکت کا فیصلہ کیا، حالانکہ انہیں باقاعدہ دعوت دی گئی تھی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق افغان وفد کو باقاعدہ دعوت دی گئی تھی لیکن انہوں نے عدمِ شرکت کا فیصلہ کیا ہے

January 21, 2026

اقتصادی تعاون تنظیم کی دسویں اجلاس کے موقع پر ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امارتِ اسلامیہ افغانستان نے اسلام آباد میں منعقدہ ایس سی او اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ انہیں باقاعدہ دعوت دی گئی تھی۔

حکومتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امارت اسلامیہ کے وفد کو ایس سی او اجلاس میں شرکت کے لیے باضابطہ دعوت نامہ بھیجا گیا تھا، لیکن امارتِ اسلامیہ افغانستان نے اس موقع پر عدمِ شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس میں ممکنہ طور پر علاقائی اقتصادی ترقی، قدرتی آفات کے انتظام، اور بین الاقوامی تعاون کے مواقع پر بھی غور کیا جائے گا۔ پاکستانی حکام نے اس اجلاس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے مابین روابط کو مضبوط کرنے اور قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنا ہے۔

خیال رہے کہ اس اجلاس کا بنیادی مقصد قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنا ہے اور اس میں رکن ممالک کے وزراء اور اعلیٰ سطحی وفود شرکت کر رہے ہیں۔ جبکہ تنظیم میں ترکی، ایران، پاکستان، افغانستان، آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان جیسے ممالک شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

بعد ازاں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفد نے ترلائی کا بھی دورہ کیا، جہاں علما اور مشائخ نے خودکش دھماکے میں شہید ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی، ان کے لیے دعائے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کی۔ وفد نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

February 7, 2026

سکیورٹی نظام عموماً غیر معمولی یا گھبرائے ہوئے رویے پر ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ خودکش حملہ آور اسی نفسیاتی حقیقت سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کے لیے واحد مقصد آخری ہدف کا حصول ہوتا ہے۔ اس مقصد کے سامنے ہر خطرہ، ہر رکاوٹ اور ہر ممکنہ انجام ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔

February 7, 2026

بلوچستان حکومت نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کا یہ ماڈل صرف عسکری کارروائی تک محدود نہیں بلکہ قانون، ادارہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل شفافیت اور انتہا پسندی کے تدارک پر مبنی ایک جامع حکمت عملی ہے، جو دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بنے گی۔

February 7, 2026

حالیہ دنوں میں بلوچستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں ماہرین اس مقدمے کو محض ایک عدالتی کارروائی نہیں بلکہ دہشت گردی کے ہمدردوں کے خلاف ریاستی عزم کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست نے واضح فیصلہ کر لیا ہے کہ دہشت گردی یا اس کی فکری، اخلاقی یا بیانیاتی حمایت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

February 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *