حالیہ دنوں افغان و انڈین سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر گردش کرنے والی خبریں کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، پاکستانی حکام نے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دی ہیں
ایس سی او ریٹس کی یہ تشویشناک رپورٹ بالکل وہی تصویر پیش کرتی ہے جس کی طرف پاکستان کئی برسوں سے توجہ دلاتا آیا ہے کہ افغانستان عالمی دہشت گرد گروہوں کا بنیادی بیس کیمپ بنتا جا رہا ہے اور خطے کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
برمل کا خطہ عرصۂ دراز سے جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں کے باعث حساس سمجھا جاتا ہے۔ 2022 میں اسی علاقے میں جماعت الاحرار کا امیر عمر خالد خراسانی ایک بم دھماکے میں مارا گیا تھا۔
عزیزی نے ہندوستان کے ساتھ کابل-نئی دہلی ایئر کوریڈور کی بحالی کا اشارہ بھی دیا ہے، جسے وہ ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ لیکن سابق صدر اشرف غنی کے دور کی طرح، یہ کوریڈور افغان برآمدات کے لیے لاگت، حجم اور تسلسل کے چیلنجز کے باعث معاشی بنیادوں پر مضبوط نہیں ہو سکا تھا۔
نورالدین عزیزی کے حالیہ دورے نے اگرچہ سفارتی سطح پر گرمجوشی پیدا کی ہے لیکن یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کیا بھارت اس اقتصادی تعاون کو سنجیدگی سے عملی شکل دینے کے لیے تیار بھی ہے، یا پھر یہ پورا سلسلہ محض سفارتی منظرنامہ مستحکم رکھنے کی ایک حکمتِ عملی ہے؟