افغان میڈیا کے مطابق قندھار کے ہسپتال میں زخمی دہشت گردوں کے انٹرویو کی کوشش پر افغان ٹائمز کے دو صحافیوں کو طالبان نے تشدد کے بعد اغوا کر لیا۔

September 25, 2026

مشیر داخلہ بلوچستان بابر یوسف زئی کا کہنا ہے کہ رقبے کی وسعت کے باعث کوئٹہ سے دور دراز اضلاع کے مسائل حل کرنا ممکن نہیں، نئے صوبوں پر سب متفق ہیں۔

September 25, 2026

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر مؤخر کرنے کے اقدام نے خطے میں پانی کی تقسیم اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

September 25, 2026

ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی لہر تیز ہو گئی، سندھ اور بلوچستان کے بعد ہزارہ ڈویژن کے شہریوں نے بھی الگ صوبے کا بھرپور مطالبہ کر دیا۔

September 25, 2026

جامعہ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم نے افغان طالبان کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف عملاً جنگ لڑ رہے ہیں۔

September 25, 2026

پی ٹی آئی کا اسلام آباد لانگ مارچ ہوگا یا نہیں، اس حوالے سے حتمی فیصلہ آج سہ پہر 3 بجے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی اہم پریس کانفرنس میں سامنے آئے گا۔

September 25, 2026

افغانستان میں ڈرون حملے اور پاکستان پر الزامات: حساس خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

برمل کا خطہ عرصۂ دراز سے جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں کے باعث حساس سمجھا جاتا ہے۔ 2022 میں اسی علاقے میں جماعت الاحرار کا امیر عمر خالد خراسانی ایک بم دھماکے میں مارا گیا تھا۔
افغانستان میں ڈرون حملے اور پاکستان پر الزامات: حساس خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

عینی شاہدین کے مطابق گزشتہ رات کے دھماکوں کے بعد فوری طور پر عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ متاثرہ علاقے میں پہلے سے موجود گروہوں نے ہنگامی سرگرمیاں کیں۔

November 25, 2025

افغانستان کے سرحدی علاقوں میں گزشتہ رات ایک بار پھر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق برمل، مغلائی (پکتیکا) اور اسد آباد (کنڑ) میں زوردار دھماکے ہوئے جن میں ایک گاڑی اور قریبی حجرہ بھی متاثر ہوا، جبکہ ہلاکتوں کی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ افغان حکام نے ابتدائی بیان میں ان دھماکوں کا الزام پاکستان پر لگایا ہے، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق نہیں ہو سکی اور اسلام آباد کی جانب سے بھی کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آیا۔

برمل کا خطہ عرصۂ دراز سے جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں کے باعث حساس سمجھا جاتا ہے۔ 2022 میں اسی علاقے میں جماعت الاحرار کا امیر عمر خالد خراسانی ایک بم دھماکے میں مارا گیا تھا۔ گزشتہ روز پشاور میں ایف سی اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری بھی جماعت الاحرار نے قبول کی تھی، جس نے سرحدی سکیورٹی خدشات ایک بار پھر بڑھا دیے۔

سرحدی بیلٹ خصوصاً خوست، برمل، پکتیکا اور کنڑ کو اقوامِ متحدہ کی 2023–24 کی مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی سلسلہ وار رپورٹس میں ٹی ٹی پی کے ”ٹرانزٹ اور فیسلیٹیشن زون“ کے طور پر ظاہر کیا ہے، جہاں محفوظ ٹھکانوں، اسلحہ نقل و حمل اور تربیتی سرگرمیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ افغان حکومت اگرچہ ان رپورٹس کو مسترد کرتی ہے، لیکن اب تک کوئی متبادل شواہد بھی فراہم نہیں کر سکی۔

گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کے سرحدی اضلاع جن میں خیبر، شمالی وزیرستان، لکی مروت اور بنوں شامل ہیں، کو افغان سرزمین سے ہونے والی 1000 سے زائد حملوں کا سامنا رہا ہے۔ ہر بار پاکستان نے کابل سے مشترکہ بارڈر میکانزم، معلومات کے تبادلے اور آزادانہ تصدیقی ٹیموں کی تجویز دی، مگر یہ عملی مرحلے تک نہ پہنچ سکی۔ مشاہدہ یہ بھی رہا ہے کہ جب بھی سرحدی علاقوں میں کسی مشتبہ ہدف پر دھماکا ہوتا ہے، کابل یک دم ”شہری ہلاکتوں“ کے بیانیے کو نمایاں کر دیتا ہے، جب کہ زمینی حقائق اس بیانیے کی تصدیق نہیں کرتے۔

عینی شاہدین کے مطابق گزشتہ رات کے دھماکوں کے بعد فوری طور پر عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت بھی دیکھی گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ متاثرہ علاقے میں پہلے سے موجود گروہوں نے ہنگامی سرگرمیاں کیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار اپنے مراکز ایسے دیہی گھروں یا مہمان خانوں کے اندر قائم کرتے ہیں جہاں عام شہری بھی موجود ہوتے ہیں، جس سے کسی بھی واقعے کے بعد بیانیہ فوری طور پر ”سویلین“ کے گرد گھومنے لگتا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کے تازہ الزام کے برعکس فی الحال کسی فریق نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرحد پار موجود دہشت گرد گروہ افغانستان کے امن کے لیے بھی اتنے ہی خطرناک ہیں جتنے پاکستان کے لیے، اور ان کی مسلسل موجودگی خطے میں کسی دیرپا استحکام کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔

مزید تفصیلات موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

دیکھیں: عالمی سمپوزیم رپورٹ میں افغانستان میں صحافتی آزادی کی 550 سے زائد خلاف ورزیوں کی نشاندہی

متعلقہ مضامین

افغان میڈیا کے مطابق قندھار کے ہسپتال میں زخمی دہشت گردوں کے انٹرویو کی کوشش پر افغان ٹائمز کے دو صحافیوں کو طالبان نے تشدد کے بعد اغوا کر لیا۔

September 25, 2026

مشیر داخلہ بلوچستان بابر یوسف زئی کا کہنا ہے کہ رقبے کی وسعت کے باعث کوئٹہ سے دور دراز اضلاع کے مسائل حل کرنا ممکن نہیں، نئے صوبوں پر سب متفق ہیں۔

September 25, 2026

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر مؤخر کرنے کے اقدام نے خطے میں پانی کی تقسیم اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

September 25, 2026

ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی لہر تیز ہو گئی، سندھ اور بلوچستان کے بعد ہزارہ ڈویژن کے شہریوں نے بھی الگ صوبے کا بھرپور مطالبہ کر دیا۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *