نوبل امن انعام کا مقصد اگر واقعی عالمی امن ہے، تو اس میں غیر جانب داری اور حقائق پر مبنی فیصلے ناگزیر ہیں۔ بصورتِ دیگر، یہ ایوارڈ امن نہیں بلکہ طاقت کی سیاست کا ایک آلہ بن کر رہ جائے گا — جہاں ’’امن‘‘ کی تعریف بھی طاقتور طے کرتے ہیں۔
مذہبی علما کو نظامِ شریعت کے محافظ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ مجاہدین اور سرکاری عہدیداران کو علما سے مشاورت کرنی چاہیے اور ان کے فتووں اور رہنمائی پر عمل کرنا لازم ہے۔
بھارتیوں کیلئے ویزوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے کا حصہ نہیں ہے، یہ دورہ آزاد تجارتی معاہدے سے فائدہ اٹھانے کیلئےہے جو ہم پہلے ہی طے کر چکے ہیں۔