فتنہ الخوارج کی جانب سے جاری کردہ وہ ویڈیو جس میں نور ولی محسود کی کرم میں موجودگی کا دعویٰ کیا گیا تھا، تکنیکی جائزے اور سکیورٹی حقائق کے بعد مکمل طور پر من گھڑت اور جعلی ثابت ہو گئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس تصویر کو ڈیجیٹل طور پر تبدیل کیا گیا ہے، جس میں پس منظر، آڈیو اور پرانی ویڈیوز کا دوبارہ استعمال کر کے محض مصنوعی طاقت اور آپریشنل صلاحیت کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ نور ولی محسود بدستور افغانستان کے محفوظ ٹھکانوں میں موجود رہ کر پاکستان میں تخریب کاری کی ہدایات دیتا ہے اور خود میدانِ جنگ میں آئے بغیر دوسروں کو سرحد پار بھیجتا ہے۔
نور ولی کے پاس فقہ یا حدیث کی کوئی تسلیم شدہ دینی سند موجود نہیں، جبکہ پیغامِ پاکستان کے تحت 2000 کے قریب علمائے کرام دہشت گردی اور تکفیر کو غیر اسلامی قرار دے کر اس کے نظریے کو باطل ثابت کر چکے ہیں۔
اس کے علاوہ مساجد، مدارس، پولیو ورکرز، اساتذہ اور بے گناہ شہریوں پر فتنہ الخوارج کے حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ قرآن کی سورۃ المائدہ (آیت 32) کے احکامات کی نفی کرتے ہوئے مذہب کو صرف پردے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جولائی 2026 تک فورسز نے 40,348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جن میں 2,084 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ان ہی بھاری آپریشنل ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اس قسم کی ویڈیوز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹس اور حقائق سے واضح ہے کہ فتنہ الخوارج کوئی مذہبی تحریک نہیں بلکہ بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور منشیات کی اسمگلنگ پر چلنے والا ایک مجرمانہ نیٹ ورک ہے جس کے پاس پاکستان میں کوئی انتظامی اختیار موجود نہیں۔
یہ تمام تر مشق عسکری سے زیادہ ایک نفسیاتی جنگ ہے، تاہم من گھڑت ویڈیوز کے ذریعے حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا اور نور ولی محسود ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کے قتل کا ذمہ دار خود ساختہ عسکری رہنما ہی رہے گا۔
دیکھیے: لکی مروت میں آپریشن 11 گرج، افغان شہری سمیت 3 خوارج ہلاک