"> شمالی وزیرستان میں تانبے کے ذخائر؛ سوشل میڈیا کا مضحکہ خیز دعویٰ بے نقاب - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

شمالی وزیرستان میں تانبے کے ذخائر؛ سوشل میڈیا کا مضحکہ خیز دعویٰ بے نقاب

سوشل میڈیا پر شمالی وزیرستان میں تانبے کے ذخائر سے متعلق مضحکہ خیز دعویٰ بے نقاب؛ عالمی ادارے کے اعداد و شمار نے ریاست مخالف پراپیگنڈا بے نقاب کر دیا
سوشل میڈیا پر شمالی وزیرستان میں تانبے کے ذخائر سے متعلق مضحکہ خیز دعویٰ بے نقاب؛ عالمی ادارے کے اعداد و شمار نے ریاست مخالف پراپیگنڈا بے نقاب کر دیا

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق دنیا بھر کے مجموعی ذخائر سے بھی زیادہ کا دعویٰ جھوٹا اور گمراہ کن ثابت

February 21, 2026

سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ریاست اور قومی اداروں کے خلاف ایک مربوط مہم کے تحت حقائق کو مضحکہ خیز حد تک توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک وائرل ہونے والی پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ شمالی وزیرستان میں تانبے کے ذخائر کی مقدار 36,000 ملین ٹن ہے، تاہم مستند عالمی اعداد و شمار نے اس بے بنیاد بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

حقائق بمقابلہ پروپیگنڈا

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پوری دنیا میں تانبے کے کل معلوم ذخائر کی مقدار تقریباً 980 ملین ٹن ہے۔ اس تناظر میں صرف ایک علاقے یعنی شمالی وزیرستان میں 36,000 ملین ٹن تانبے کی موجودگی کا دعویٰ عقلِ سلیم سے عاری اور تکنیکی طور پر ناممکن ہے۔ یہ مقدار دنیا بھر کے مجموعی ذخائر سے بھی کئی گنا زیادہ دکھائی گئی ہے، جو واضح طور پر عوام میں بے چینی پھیلانے کے لیے گھڑا گیا ایک جھوٹ ہے۔

ریاست مخالف بیانیے کا تدارک

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بے بنیاد دعوے سوشل میڈیا پر ریاست کے خلاف نفرت انگیزی اور گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس پوسٹ میں موجود ہر سطر حقائق کے منافی ہے، جس کا مقصد عوام کو اداروں کے خلاف اکسانا اور غلط معلومات کے ذریعے افراتفری پیدا کرنا ہے۔

عوامی اپیل

شہریوں سے گزارش کی گئی ہے کہ اس طرح کے مضحکہ خیز دعوؤں کو شیئر کرنے یا ان پر یقین کرنے سے پہلے لازماً ان کی تصدیق کریں اور مستند ذرائع کا حوالہ دیکھیں۔ غیر تصدیق شدہ معلومات کا پھیلاؤ نہ صرف ملکی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کے خلاف دشمن عناصر کے پروپیگنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔

دیکھیے: باجوڑ میں 11 فوجیوں کی شہادت پر شدید احتجاج

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *