"> مودی سے پریس فریڈم پر سوال کی کوشش؛ نارویجن صحافی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ معطل - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مودی سے پریس فریڈم پر سوال کی کوشش؛ نارویجن صحافی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ معطل

نریندر مودی سے پریس فریڈم پر سوال پوچھنے کی کوشش کرنے والی نارویجن صحافی ہیلے لنگ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
نریندر مودی سے پریس فریڈم پر سوال پوچھنے کی کوشش کرنے والی نارویجن صحافی ہیلے لنگ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

نارویجن صحافی ہیلے لنگ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ مبینہ طور پر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے سوال اٹھانے کی پاداش میں معطل؛ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہندوتوا اثر و رسوخ کے الزامات۔

May 20, 2026

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ ناروے کے دوران آزادیِ صحافت پر سوال پوچھنے کی کوشش کرنے والی نامور نارویجن صحافی ہیلے لنگ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ مبینہ طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ خاتون صحافی نے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ایکس پر اپنے معطل شدہ اکاؤنٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے اس کارروائی کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دن بھر اپنے اکاؤنٹ میں لاگ ان کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرتی رہیں، جس کے بعد بالاخر انسٹاگرام انتظامیہ کی جانب سے ان کا اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا۔

آزادیٔ صحافت کی قیمت

ہیلے لنگ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس سنسرشپ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں اس قسم کے رویے کا سامنا پہلے کبھی نہیں کیا۔ انہوں نے اس معطلی کو آزادیٔ صحافت اور حقِ سچ کی آواز بلند کرنے کے لیے ایک “چھوٹی سی قیمت” قرار دیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بین الاقوامی صحافیوں کو بھی مودی حکومت سے متعلق حساس موضوعات پر بات کرنے کی پاداش میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ہندوتوا اثر و رسوخ

اس واقعے کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین، ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین اور عالمی مبصرین کی جانب سے شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عوامی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے یہ سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ یہ کارروائی مبینہ طور پر بھارتی انتظامیہ کے دباؤ یا سوشل میڈیا کمپنیوں کے مانیٹرنگ سیلز میں موجود ہندوتوا اور مودی نواز عناصر کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اندر موجود مخصوص نیٹ ورک کو استعمال کر کے مودی حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبایا جا رہا ہے۔

جمہوریت پر سوالیہ نشان

مبصرین نے اس اقدام کو آزادیِ اظہارِ رائے اور بین الاقوامی صحافت پر ایک بڑا حملہ قرار دیا ہے۔ یہ موقف اپنایا جا رہا ہے کہ ایک طرف بھارت خود کو دنیا کی “سب سے بڑی جمہوریت” کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن دوسری طرف اس کے سربراہِ مملکت سے محض پریس فریڈم پر سوال اٹھانے کی کوشش پر ایک عالمی صحافی کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بند کروا دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ بھارتی حکومت اپنے خلاف اٹھنے والے سوالات کو عالمی سطح پر سینسر کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتی ہے۔

دیکھیے: مودی کے دورۂ ناروے پر اوسلو میں کشمیری، سکھ اور نارویجن تنظیموں کا شدید احتجاج

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *