افغانستان کے صوبے نورستان کے ضلع کامدیش میں مقامی آبادی نے مزاحمتی جنگجوؤں کی گرفتاری سے متعلق طالبان انتظامیہ کے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
تحقیقاتی میڈیا ادارے پامیر واچ نے کامدیش کے مقامی رہائشیوں سے گفتگو کی ہے۔ شہریوں نے طالبان کے سرکاری مؤقف سے کھلا اختلاف کیا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق علاقے میں قومی مزاحمتی محاذ اور طالبان فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے دوران طالبان کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ جانی نقصان کے بعد طالبان اہلکاروں نے مقامی آبادی کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا۔ فورسز نے عام شہریوں کو ہراساں کیا اور ان پر تشدد کیا۔
علاقے کی ایک خاتون فرزانہ نے بھی اپنے ویڈیو بیان میں انکشاف کیا ہے کہ لڑائی کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ طالبان لوگوں کے گھروں سے نوجوانوں اور بچوں کو زبردستی اٹھا کر لے جا رہے ہیں۔
رہائشیوں نے مزید سنگین دعویٰ کیا ہے کہ حراست میں لیے گئے بچوں کو دباؤ کے تحت ریکارڈ شدہ ویڈیوز میں زبردستی پیش کیا گیا۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلسل کارروائیوں اور سیکیورٹی فورسز کے خوف سے بیشتر شہری گھروں میں محصور ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب طالبان حکام نے تاحال مقامی الزامات پر کوئی وضاحت جاری نہیں کی۔
دیکھیے: افغان سرزمین سے دہشت گردی ہوئی تو بھرپور جواب دیں گے، وزیر اطلاعات