وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران ‘آپریشن غصب الحق’ کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ عسکری کارروائی کے نتیجے میں 331 افغان طالبان اہلکار ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ یہ کاروائی سرحد پار سے ہونے والی مسلسل دہشت گردی اور پاکستانی سرزمین پر حملوں کے جواب میں کی گئی ہے، جس کا مقصد ملکی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ‘آپریشن غصب الحق’ کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والے عناصر کو موثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس آپریشن میں نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ تخریب کاروں کے ٹھکانوں اور عسکری انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ریاست دشمن عناصر کو کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب افغان طالبان کی عبوری حکومت کی جانب سے ان ہلاکتوں کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قدر بڑے پیمانے پر جانی نقصان کے دعوے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے، جبکہ سرحد پر سیکیورٹی فورسز کو انتہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔