وزیراعظم شہباز شریف کا دو روزہ سرکاری دورہ آسٹریا دونوں ممالک کے مابین سفارتی و اقتصادی روابط کی بحالی میں ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوا ہے۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے بعد کسی پاکستانی وزیراعظم کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے، جس سے قبل 1992 میں میاں نواز شریف نے ویانا کا دورہ کیا تھا۔ سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والا یہ دورہ پاکستان کی یورپ میں سفارتی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
پاک۔ آسٹریا بزنس فورم اور اقتصادی مواقع
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دورے کے دوران آسٹرین اکنامک چیمبر کے زیرِ اہتمام منعقدہ ‘پاک۔ آسٹریا بزنس فورم’ سے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے آسٹریا کی کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے ملک کی 24 کروڑ آبادی، بالخصوص باصلاحیت نوجوانوں کو ایک عظیم اثاثہ قرار دیا۔ وزیراعظم نے آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی، زراعت، کان کنی اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کو ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے ایک پرکشش منزل کے طور پر پیش کیا۔
تزویراتی مذاکرات اور دو طرفہ تعاون
دورے کے دوران وزیراعظم نے آسٹریا کے چانسلر کرسچن اسٹوکر سے فیڈرل چانسلری میں وفود کی سطح پر اہم مذاکرات کیے۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مری میں کیبل کار منصوبے اور معدنیات جیسے موجودہ منصوبوں سے آگے بڑھ کر طویل المدتی اور منظم بنیادوں پر روابط استوار کیے جائیں گے۔ آسٹریا کے چانسلر نے وزیراعظم شہباز شریف کی جرمن زبان پر عبور کو سراہتے ہوئے ان کی گفتگو کی ویڈیو اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر شیئر کی، جسے سفارتی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی ملی ہے۔
عالمی چیلنجز اور ذمہ دارانہ کردار
وزیراعظم نے یورپی ممالک کے ساتھ غیر قانونی ہجرت کے خلاف تعاون کے عزم کا اعادہ کیا اور ماحولیاتی تبدیلی و پائیدار ترقی جیسے عالمی امور پر پاکستان کا تعمیری موقف پیش کیا۔ ویانا میں اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی موجودگی کے تناظر میں یہ گفتگو پاکستان کو ایک ذمہ دار بین الاقوامی شراکت دار کے طور پر پیش کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دورے سے نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے حصول اور یورپی منڈیوں تک رسائی کی نئی راہیں بھی روشن ہوں گی۔