مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر علی ٹیپو نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کی زمینی سرحدیں معمول کے مطابق فعال ہیں اور تجارتی سامان کی نقل و حمل کے لیے گرین چینلز مکمل سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
تجارتی سرگرمیاں
ایران میں پاکستانی سفیر مدثر علی ٹیپو نے اپنے ایک خصوصی بیان میں ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان مشکل حالات میں پاکستان کو تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے مکمل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحدی مقامات پر قائم گرین چینلز دونوں جانب اشیاء کی تیز تر ترسیل میں انتہائی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ پاکستانی سفارتخانہ تجارتی سہولت کاری کے لیے دونوں ممالک کے سرکاری اور نجی شعبوں سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
رجسٹریشن کی اپیل
دوسری جانب ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیشِ نظر سفیرِ پاکستان نے وہاں مقیم پاکستانی شہریوں کو فوری رجسٹریشن کی ہدایت کی ہے۔ خاص طور پر قم میں مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سفارتخانے میں اپنی رجسٹریشن یقینی بنائیں تاکہ ان کی وطن واپسی کے منصوبے کو بلا تاخیر مکمل کیا جا سکے۔ سفیر کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن کے بعد شہریوں کی بحفاظت واپسی کے انتظامات فوری طور پر کیے جائیں گے۔
ایران کے سفر سے گریز کی ہدایت
موجودہ سکیورٹی حالات کے پیشِ نظر پاکستان کے دفترِ خارجہ نے شہریوں کے لیے ایک باقاعدہ ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں انہیں ایران کے ہر قسم کے سفر سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ایران میں پہلے سے مقیم پاکستانیوں کو احتیاط برتنے، غیر ضروری نقل و حرکت سے بچنے اور چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دفترِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ شہری پاکستانی سفارتی مشنز کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں، جس کے لیے ہیلپ لائن نمبرز بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔