انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایس سے متاثرہ بھارت عالمی امن کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ ڈیٹرنس کبھی جامد نہیں رہتی بلکہ اس کے لیے صلاحیت اور عزم دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایٹمی ہتھیار تنازعات کی نوعیت کو تبدیل کردیتے ہیں اور یہ کتاب اسی حقیقت کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔

May 11, 2026

کتاب کے مختلف ابواب معروف ماہرین، سفارتکاروں اور سابق عسکری حکام نے تحریر کیے ہیں جن میں ڈاکٹر رضوانہ، ڈاکٹر جسپال، لیفٹیننٹ جنرل مظہر جمیل، سفیر ضمیر اکرم، ڈاکٹر ظہیر کاظمی، ڈاکٹر اختر، ڈاکٹر نعیم صادق، ڈاکٹر خالد، لیفٹیننٹ جنرل سرفراز اور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض شامل ہیں۔

May 11, 2026

اسلام آباد میں خودکش حملے کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے ایک خاتون حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا؛ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق خاتون کو والد کے قتل کی دھمکی دے کر حملے پر مجبور کیا گیا تھا۔

May 11, 2026

قلات اور خضدار میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کاروائیوں کے دوران 7 سے زائد دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔

May 11, 2026

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت بیانیہ جاری کرتے ہوئے اوباما اور بائیڈن کی پالیسیوں کو امریکی مفادات کے لیے تباہ کن قرار دے دیا اور تہران کو نئی وارننگ جاری کر دی۔

May 11, 2026

سعودی عرب نے خیبر پختونخوا میں پولیس پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ہر قسم کے تعاون اور اظہارِ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

May 11, 2026

پاک سعودی تعلقات میں اہم پیش رفت

سعودی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک دوسرے سے اپنے وفود کا تعارف کروایا۔
پاک سعودی تعلقات میں اہم پیش رفت

پاک سعودی تعلقات کا سب سے مضبوط پہلو حرمین شریفین سے پاکستان کے عوام کی والہانہ محبت ہے۔ ہر سال لاکھوں پاکستانی فریضۂ حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب جاتے ہیں۔

September 19, 2025

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو محض دو ممالک کی سفارتی وابستگی کہنا حقیقت کا ادھورا بیان ہوگا۔ یہ رشتہ تاریخ، مذہب، ثقافت اور باہمی اعتماد کی بنیادوں پر قائم ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہیں اور ان کے درمیان تعلقات کا محور صرف سیاسی و معاشی نہیں بلکہ روحانی اوردینی بھی ہے۔


قیامِ پاکستان کے بعد سے سعودی عرب ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ اس وقت پاکستان کو جس دوست کی ضرورت تھی، سعودی عرب نے آگے بڑھ کر ہاتھ تھام لیا۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں دفاعی اور معاشی تعاون نے تعلقات کو مزید گہرا کیا۔ سعودی عرب نے نہ صرف تیل کی فراہمی میں پاکستان کی مدد کی بلکہ دفاعی سازوسامان اور تربیت کے شعبے میں بھی شراکت داری قائم کی۔


پاک سعودی تعلقات کا سب سے مضبوط پہلو حرمین شریفین سے پاکستان کے عوام کی والہانہ محبت ہے۔ ہر سال لاکھوں پاکستانی فریضۂ حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب جاتے ہیں۔ پاکستانی عوام کے دل میں سعودی عرب کے لیے جو احترام اور عقیدت ہے، وہ کسی سیاسی یا معاشی مفاد کا مرہونِ منت نہیں بلکہ ایمان اور عقیدے کی گہرائیوں سے جڑا ہے۔


مئی 1998 کو جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے “یومِ تکبیر” منایا تو عالمِ اسلام میں سب سے زیادہ پذیرائی اور حوصلہ افزائی سعودی عرب سے ملی۔ سعودی قیادت نے پاکستان کو مسلم دنیا کا دفاعی ستون قرار دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاک سعودی تعلقات نے عالمی منظرنامے پر مزید اعتماد حاصل کیا۔


پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا ایک نمایاں پہلو عسکری تعاون ہے۔ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں جب “اسلامی فوجی اتحاد برائے انسداد دہشت گردی” تشکیل پایا تو اس اتحاد نے پاک سعودی تعلقات کو نئی جہت دی۔ سعودی عرب نے اس اتحاد کا مرکز بنایا اور قیادت پاکستانی سابق سپہ سالار کو سونپ کر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک تجربہ کار اور مضبوط کردار رکھتا ہے۔


حال ہی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بہت بڑی پیش رفت ہوئی ۔ سعودی ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مملکت سعودی عرب کے دورے کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا، معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے، معاہدے کا مقصد جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سعودی عرب اور پاکستان کی 8 دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری ہے، دونوں ممالک میں مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کے تناظر میں معاہدہ ہوا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے وفود کی موجودگی میں مذاکرات کا باضابطہ اجلاس ہوا، وزیر اعظم شہباز شریف نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کےلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، فریقین نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی و اسٹریٹجک تعلقات اور مشترکہ دلچسپی کے متعدد موضوعات کا جائزہ لیا۔

اعلامیہ کے مطابق معاہدہ دونوں ممالک کی سلامتی کو بڑھانے، خطے اور دنیا میں امن کے حصول کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، موجودہ اور متوقع خطرات و چیلنجز کے تناظر میں یہ معاہدہ دفاع کو مضبوط بنائے گا، معاہدہ دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کی تیاری اور انضمام کو بڑھائے گا، معاہدے سے دونوں ممالک کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو لاحق کسی بھی خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے گا۔

معاہدے کی شقوں کے تحت کسی بھی ملک پر بیرونی مسلح حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، معاہدے پر دستخط دونوں ممالک کے گہرے دو طرفہ تعلقات اور سیکیورٹی تعاون کی توثیق کرتے ہیں، معاہدہ دہائیوں سے مشترکہ فوجی تربیت، کثیر الجہتی مشقوں اور دفاعی صنعتی تعاون کو ظاہر کرتا ہے، معاہدہ امن کے فروغ اور علاقائی و عالمی سلامتی کو مستحکم کرنے کے مشترکہ مقاصد کو پورا کرتا ہے۔ دفاعی معاہدہ دونوں ملکوں کے لیے سیکیورٹی، معیشت اور سفارت کاری میں انتہائی فائدہ مند ہے، معاہدے کے تحت دونوں ممالک کسی بھی خطرے سے مشترکہ طور پر نمٹیں گے، معاہدے کے تحت اپنے دفاع کے لیے ایک ملک کی طاقت دوسرے ملک کے دفاع کے لیے موجود ہوگی۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ پاک سعودی اسٹرٹیجک شراکت داری کی گہرائی اور دفاعی تعاون کی مضبوطی کو ثابت کرتا ہے، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معاہدے کی کامیابی میں کلیدی کردارادا کیا، معاہدے سے پاکستان اب حرمین شریفین کے تحفظ میں سعودی عرب کا پارٹنر بن گیا ہے جو کہ پاکستان کے لیے کسی بھی اعزاز سے کم نہیں ۔

اس سے قبل وزیراعظم سعودی ولی عہد سے ملاقات کے لیے قصر یمامہ پہنچے تو ان کا روایتی انداز میں پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ گھڑ سواروں کے دستے نے شاہی پروٹوکول کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کو خوش آمدید کہا۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو خوش آمدید کہا۔

سعودی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک دوسرے سے اپنے وفود کا تعارف کروایا۔ اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا، سعودی ولی عہد نے وزیرِ اعظم کی اچھی صحت اور عوام کی خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

وزیراعظم کے ہمراہ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف، عطاء اللّٰہ تارڑ، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔
قارئین !امید ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے سیاسی ،معاشی اور عسکری مفاد کے لیے بالخصوص دفاع حرمین شریفین کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوگا ۔پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی میں مزید مضبوطی اور تقویت کو فروغ ملے گا۔

دیکھیں: پاکستان اور سعودی عرب کا باہمی دفاعی معاہدہ: آٹھ دہائیوں پر محیط تعلقات میں نیا سنگِ میل

متعلقہ مضامین

انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایس سے متاثرہ بھارت عالمی امن کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ ڈیٹرنس کبھی جامد نہیں رہتی بلکہ اس کے لیے صلاحیت اور عزم دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایٹمی ہتھیار تنازعات کی نوعیت کو تبدیل کردیتے ہیں اور یہ کتاب اسی حقیقت کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔

May 11, 2026

کتاب کے مختلف ابواب معروف ماہرین، سفارتکاروں اور سابق عسکری حکام نے تحریر کیے ہیں جن میں ڈاکٹر رضوانہ، ڈاکٹر جسپال، لیفٹیننٹ جنرل مظہر جمیل، سفیر ضمیر اکرم، ڈاکٹر ظہیر کاظمی، ڈاکٹر اختر، ڈاکٹر نعیم صادق، ڈاکٹر خالد، لیفٹیننٹ جنرل سرفراز اور لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض شامل ہیں۔

May 11, 2026

اسلام آباد میں خودکش حملے کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے ایک خاتون حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا؛ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق خاتون کو والد کے قتل کی دھمکی دے کر حملے پر مجبور کیا گیا تھا۔

May 11, 2026

قلات اور خضدار میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کاروائیوں کے دوران 7 سے زائد دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔

May 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *