اسلام آباد میں “معرکۂ حق: ڈیٹرنس، اشتعال انگیزی اور جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک میچورٹی” کے عنوان سے منعقدہ کتاب کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن، ڈیٹرنس اور اسٹریٹجک استحکام کو سمجھنے کے لیے حقائق پر مبنی مکالمہ ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غلط اندازے اکثر عقل و منطق سے زیادہ تیزی سے سفر کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خطے میں ذمہ دارانہ رویہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے کہا کہ یہ کتاب نہایت جرات اور وضاحت کے ساتھ خطے کو درپیش خطرات اور پالیسی غلطیوں کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جنوبی ایشیا میں ایک نام نہاد “نیو نارمل” مسلط کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم یہ “نیو نارمل” درحقیقت ایک “نئی غیر معمولی صورتحال” میں تبدیل ہوگیا۔ ان کے مطابق بھارت کا جنگی اور اسٹریٹجک نظریہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے اور پاکستان کی موجودگی میں کوئی بھی یکطرفہ “نیو نارمل” قائم نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پچیس برسوں میں بھارت نے کئی بار سوچے سمجھے اشتعال انگیز اقدامات کیے مگر ہر مرتبہ اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان نے ہر مرحلے پر مضبوط اور مؤثر ڈیٹرنس کا مظاہرہ کیا، جس نے بھارت کی حکمت عملی کو بے نقاب کردیا۔ جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے کہا کہ مودی ڈاکٹرائن غلط مفروضوں پر مبنی ہے، جس نے جنوبی ایشیا کو کئی مرتبہ ایٹمی جنگ کے دہانے تک پہنچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا موجودہ نظریہ ہندوتوا سے متاثر ہے جبکہ “گودی میڈیا” خطے میں نفرت اور کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی پالیسیوں اور نظریات کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے جنوبی ایشیا پر غلبے کے عزائم کو مسترد کیا ہے اور کسی بھی قسم کی اسٹریٹجک سگنلنگ کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس نے کہا کہ پاکستان آج بھی “فل اسپیکٹرم ڈیٹرنس” کی پالیسی پر قائم ہے، جو خطے میں استحکام کا ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق اسٹریٹجک سطح پر کشیدگی کے زینے کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پاکستان کے پاس موجود ہے اور جدید دور میں مؤثر ابلاغ بھی طاقت کا اہم عنصر بن چکا ہے۔
جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے کہا کہ کشمیر اور پانی جنوبی ایشیا کے دو بڑے ایٹمی فلیش پوائنٹس ہیں، جن پر تحمل، مکالمہ اور ذمہ داری کا مظاہرہ ناگزیر ہے، مگر بھارتی مہم جوئی خطے کے امن کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “معرکۂ حق” کے دوران پاکستان نے ہر شعبے میں اپنی تیاری اور صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایس سے متاثرہ بھارت عالمی امن کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ ڈیٹرنس کبھی جامد نہیں رہتی بلکہ اس کے لیے صلاحیت اور عزم دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایٹمی ہتھیار تنازعات کی نوعیت کو تبدیل کردیتے ہیں اور یہ کتاب اسی حقیقت کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔
خطاب کے اختتام پر جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے کہا کہ “بیانیے بدلتے رہتے ہیں، ڈاکٹرائنز ارتقا پذیر رہتی ہیں، مگر ایک چیز ہمیشہ قائم رہتی ہے اور وہ ہے حق۔ پاکستان کو غلط اندازہ لگا کر کمزور سمجھنے کی کوشش نہ کی جائے، یہی نیا نارمل ہے۔”