پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاشی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیم سالم الزعابی نے اعلان کیا ہے کہ دونوں ممالک ‘جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے’ (سیپا) پر دستخط کے آخری مرحلے میں ہیں، جس کا مقصد دوطرفہ تجارت کو دوگنا کرنا اور کاروباری سرگرمیوں میں حائل رکاوٹوں کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے خطاب کرتے ہوئے سفیر نے واضح کیا کہ موجودہ 8 سے 10 ارب ڈالر کا تجارتی حجم دونوں ممالک کے تزویراتی اعتماد اور حقیقی صلاحیت کی عکاسی نہیں کرتا۔
ڈیجیٹل معیشت اور ویزا سہولیات
سفیر حماد عبید الزعابی نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات تیزی سے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں 99 فیصد سرکاری خدمات آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ویزا کے عمل کو مزید شفاف اور آسان بنانے کے لیے دونوں ممالک ڈیجیٹل نظام کے ذریعے طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ ہنرمند افرادی قوت کے لیے بھی سود مند ثابت ہوگا۔ اس سلسلے میں پنجاب اسکلڈ لیبر اتھارٹی کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں تاکہ ہنرمند پاکستانیوں کی یو اے ای منتقلی کو مزید منظم کیا جا سکے۔
تزویراتی شعبوں میں سرمایہ کاری
اماراتی سفیر کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر آپریشنل اور تکنیکی سطح پر ان معاہدوں کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ تمام ترجیحات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان میں بنیادی ڈھانچے، بندرگاہوں، ہوا بازی، زراعت، معدنیات اور ریلوے جیسے کلیدی شعبوں میں اپنی سرمایہ کاری کے دائرہ کار کو وسعت دے رہا ہے۔ یہ شراکت داری اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خلیجی منڈیوں کو جنوبی اور وسطی ایشیا سے جوڑنے والے ایک اہم علاقائی اقتصادی شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ اور بہتر مواقع میسر ہوں گے۔
معاشی استحکام
سیپا محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ ایک ‘ون ون فریم ورک’ ہے جو سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور پاکستان کو ایک مستحکم اقتصادی منزل کے طور پر متعارف کروانے میں مددگار ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، یہ معاہدہ پاکستان کی معاشی سفارت کاری کی ایک بڑی کامیابی ہے جو روایتی تجارتی تعلقات کو ایک وسیع تر ترقیاتی شراکت داری میں بدل دے گا۔ اس تعاون سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ خطے میں پاکستان کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوگا، جس سے طویل مدتی تزویراتی اور تجارتی مقاصد حاصل کیے جا سکیں گے۔