متحدہ عرب امارات کے صدر کا حالیہ دورۂ پاکستان دونوں برادر اسلامی ممالک کے دیرینہ، مضبوط اور قابلِ اعتماد تعلقات کی ایک اہم کڑی ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطہ اور دنیا سیاسی، معاشی اور تزویراتی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہے ہیں، اور پاکستان کو مستحکم شراکت داروں کی اشد ضرورت ہے۔ یو اے ای کا پاکستان کے ساتھ تعاون نہ صرف تاریخی اہمیت رکھتا ہے بلکہ مستقبل کے امکانات سے بھی بھرپور ہے۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کی بنیاد باہمی احترام، اسلامی اخوت اور مشترکہ اقدار پر استوار ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی یو اے ای نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا، چاہے وہ معاشی تعاون ہو، قدرتی آفات میں امداد ہو یا عالمی فورمز پر سفارتی حمایت۔ دوسری جانب لاکھوں پاکستانی یو اے ای کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط انسانی رشتہ قائم کیے ہوئے ہیں۔
معاشی میدان میں یو اے ای پاکستان کا ایک اہم شراکت دار ہے۔ سرمایہ کاری، توانائی، بندرگاہوں، رئیل اسٹیٹ اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں اماراتی دلچسپی پاکستان کے لیے ایک خوش آئند اشارہ ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ یو اے ای پاکستانی معیشت میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے بڑے ذرائع میں شامل ہے۔ اس دورے کے دوران متوقع معاہدے پاکستان کی اقتصادی بحالی اور ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دفاعی اور سکیورٹی تعاون بھی پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات کا ایک مضبوط ستون ہے۔ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیتے آئے ہیں۔ فوجی تربیت، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی پیداوار میں اشتراک اس تعاون کو مزید وسعت دینے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
علاقائی اور عالمی امور پر بھی پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مؤقف میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے، خصوصاً فلسطین، کشمیر اور مسلم اُمہ کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے۔ یو اے ای کا پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرنا دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔
یہ دورہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات اپنے تعلقات کو محض رسمی دوستی تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ اسے ایک جامع، طویل المدتی اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس اعتماد کو عملی اقدامات، پالیسی تسلسل اور معاشی اصلاحات کے ذریعے مضبوط کرے تاکہ یو اے ای کی سرمایہ کاری اور تعاون دیرپا اور نتیجہ خیز ثابت ہو۔
بلاشبہ، متحدہ عرب امارات کے صدر کا دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا ایک اہم موقع ہے، جس سے نہ صرف پاکستان کو معاشی و سفارتی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔
دیکھیں: افغانستان سے لیبیا تک: پاکستان کی علاقائی حکمتِ عملی