عالمی تعلیمی درجہ بندی کے معتبر ادارے ‘کواکویریلی سیمونڈز’ نے سال 2026 کے لیے ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ جاری کر دی ہے، جس میں پاکستان کے تعلیمی شعبے نے غیر معمولی پیش رفت دکھائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی طور پر 35 جامعات عالمی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہیں، جن میں 31 سرکاری اور 4 نجی شعبے کے ادارے شامل ہیں۔
پبلک سیکٹر کی حکمرانی اور تحقیقی برتری
رپورٹ کے نتائج اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی سرکاری جامعات تحقیق اور عالمی تعلیمی شناخت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد نے ملک کی بہترین پبلک سیکٹر جامعات کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ عالمی مجموعی رینکنگ میں قائد اعظم یونیورسٹی 354 ویں اور نسٹ 371 ویں نمبر پر رہی، جو کہ ٹاپ 500 عالمی جامعات میں پاکستان کی مضبوط نمائندگی ہے۔
زراعت اور انجینئرنگ میں نمایاں مقام
مضامین کے لحاظ سے کی جانے والی درجہ بندی میں پاکستان نے زرعی اور تکنیکی شعبوں میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔ یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد زراعت و جنگلات کے شعبے میں دنیا کی ٹاپ 200 جامعات میں شامل ہو کر ملک کا نام روشن کرنے میں کامیاب رہی۔ انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نسٹ (201-250 رینج) جبکہ کمپیوٹر سائنس اور آئی ٹی میں کامسیٹس اسلام آباد (201-250 رینج) نمایاں رہیں۔ یو ای ٹی لاہور نے بھی انجینئرنگ میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھی ہے۔
پرائیویٹ یونیورسٹیز کی کارکردگی
نجی شعبے کی جامعات میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) نے بزنس اور مینجمنٹ میں 101-150 کی رینج حاصل کی، جو کسی بھی پاکستانی ادارے کی سبجیکٹ رینکنگ میں سب سے بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح آغا خان یونیورسٹی نے طبی تعلیم اور لائف سائنسز میں 201-250 کی رینج کے ساتھ اپنی قائدانہ پوزیشن برقرار رکھی۔ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی نے بھی بزنس اور اکنامکس میں 151-250 کی رینج میں جگہ بنائی ہے۔
عالمی معیار اور مستقبل کے چیلنجز
کیو ایس رینکنگ کے مطابق اکثر پاکستانی جامعات 201-400 کی رینج میں موجود ہیں، جو معتدل عالمی مسابقت کو ظاہر کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ درجہ بندی تعلیمی شہرت، آجر کی پسندیدگی، تحقیقی حوالہ جات اور بین الاقوامی تحقیقی نیٹ ورک جیسے کلیدی اشاریوں پر مبنی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، اور دیگر علاقائی جامعات (پشاور، سندھ، بلوچستان) کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ تحقیقی کلچر ملک بھر میں پھیل رہا ہے۔