ان بزدلانہ کارروائیوں کے جواب میں پاک فوج نے ‘آپریشن رد الفتنہ’ کے تحت فیصلہ کن ضرب لگائی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 225 دہشت گردوں کو واصلِ جہنم کیا جا چکا ہے۔

May 11, 2026

اسلام آباد میں خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام؛ سکیورٹی فورسز نے بی ایل اے (فتنہ الہندستان) کے زیرِ اثر کم عمر لڑکی خیرالنساء کو بازیاب کرا کر اسے والد کے حوالے کر دیا، وزیراعلیٰ بلوچستان نے دہشت گردوں کے خواتین مخالف نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔

May 11, 2026

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے امریکہ میں اسرائیل کی گرتی ہوئی مقبولیت کا ذمہ دار پاکستان اور دیگر ممالک کے بوٹ فارمز کو قرار دے دیا؛ ماہرین نے اسے زمینی حقائق سے توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دیا ہے۔

May 11, 2026

بنوں حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملنے پر افغان ناظم الامور کی دفترِ خارجہ طلبی؛ پاکستان نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف فیصلہ کن جواب دینے کی وارننگ دے دی۔

May 11, 2026

انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایس سے متاثرہ بھارت عالمی امن کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ ڈیٹرنس کبھی جامد نہیں رہتی بلکہ اس کے لیے صلاحیت اور عزم دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایٹمی ہتھیار تنازعات کی نوعیت کو تبدیل کردیتے ہیں اور یہ کتاب اسی حقیقت کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔

May 11, 2026

جنوبی ایشیا میں دفاعی توازن کی نئی لکیر؛ فتح تھری سپرسونک کروز میزائل کی رونمائی نے بھارت کے براہموس میزائل کے سحر کو توڑ دیا ہے۔ ریم جیٹ ٹیکنالوجی اور آواز سے تیز رفتار کے حامل اس میزائل نے پاکستان کی ‘راکٹ فورس’ کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے، جس سے خطے میں روایتی ڈیٹرنس اور پریسیژن اسٹرائیک کی صلاحیت مزید مستحکم ہو گئی ہے۔

May 11, 2026

قاسم خان کی جنیوا کانفرنس میں شرکت؛ عالمی فورمز پر سیاست یا قومی مفاد سے کھلواڑ؟

یہ پہلا موقع نہیں کہ پی ٹی آئی پر داخلی معاملات کو عالمی سطح پر لے جانے کا الزام لگایا گیا ہو۔ ماضی میں آئی ایم ایف جیسے اداروں کے ساتھ خط و کتابت اور سیاسی تنازعات کو بین الاقوامی بحث کا حصہ بنانے کی کوششوں نے بھی یہی تاثر پیدا کیا کہ ملکی سیاست کو بیرونی دباؤ کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
قاسم خان کی جنیوا میں شرکت؛ عالمی فورمز پر سیاست یا قومی مفاد سے کھلواڑ؟

کسی بھی جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مؤقف کے لیے آواز اٹھائے، مگر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ اس عمل میں قومی مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔

March 26, 2026

پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں داخلی اختلافات کی گونج بین الاقوامی فورمز تک سنائی دے رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور عمران خان کے بیٹے قاسم خان کی جانب سے جنیوا میں مبینہ طور پر یورپی یونین کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف آواز اٹھانا محض ایک سیاسی اقدام نہیں بلکہ ایک ایسا رجحان ہے جس کے دور رس اثرات ہو سکتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کسی جماعت کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس اختلاف کو اس حد تک لے جانا درست ہے جہاں قومی معاشی مفادات داؤ پر لگ جائیں؟ جی ایس پی پلس جیسے تجارتی مراعاتی نظام پاکستان کی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل صنعت، اور لاکھوں افراد کے روزگار سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں اس پر دباؤ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ایک سنجیدہ معاملہ ہے جسے محض سیاسی حکمت عملی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ پی ٹی آئی پر داخلی معاملات کو عالمی سطح پر لے جانے کا الزام لگایا گیا ہو۔ ماضی میں آئی ایم ایف جیسے اداروں کے ساتھ خط و کتابت اور سیاسی تنازعات کو بین الاقوامی بحث کا حصہ بنانے کی کوششوں نے بھی یہی تاثر پیدا کیا کہ ملکی سیاست کو بیرونی دباؤ کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگرچہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں عالمی برادری کی توجہ حاصل کرنا ایک تسلیم شدہ عمل ہے، لیکن اس کے طریقہ کار اور وقت کا تعین نہایت اہم ہوتا ہے۔ جب ملک معاشی مشکلات سے گزر رہا ہو، تو ایسے اقدامات غیر یقینی صورتحال کو بڑھا سکتے ہیں، جو سرمایہ کاری، سفارتی تعلقات اور مالیاتی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

داخلی سطح پر بھی سیاسی بیانیے میں شدت، تقسیم اور محاذ آرائی کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناک ہے۔ سیاست اگر اختلاف سے آگے بڑھ کر دشمنی میں بدل جائے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جنیوا میں ہونے والی حالیہ سرگرمیوں میں متنازع شخصیات کی موجودگی اور پاکستان مخالف بیانیے سے جڑی آوازوں کے ساتھ روابط نے اس تاثر کو مزید گہرا کیا ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے غیر معمولی راستے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف سیاسی درجہ حرارت کو بڑھاتا ہے بلکہ ریاستی بیانیے اور قومی یکجہتی کو بھی متاثر کرتا ہے۔

ادارتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور سفارتی توازن ہے۔ کسی بھی جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مؤقف کے لیے آواز اٹھائے، مگر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ اس عمل میں قومی مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔ داخلی مسائل کا حل داخلی مکالمے، آئینی طریقہ کار اور جمہوری عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اگر سیاسی قوتیں اس بنیادی اصول کو نظر انداز کرتی رہیں تو نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

ان بزدلانہ کارروائیوں کے جواب میں پاک فوج نے ‘آپریشن رد الفتنہ’ کے تحت فیصلہ کن ضرب لگائی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 225 دہشت گردوں کو واصلِ جہنم کیا جا چکا ہے۔

May 11, 2026

اسلام آباد میں خودکش حملے کی منصوبہ بندی ناکام؛ سکیورٹی فورسز نے بی ایل اے (فتنہ الہندستان) کے زیرِ اثر کم عمر لڑکی خیرالنساء کو بازیاب کرا کر اسے والد کے حوالے کر دیا، وزیراعلیٰ بلوچستان نے دہشت گردوں کے خواتین مخالف نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔

May 11, 2026

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے امریکہ میں اسرائیل کی گرتی ہوئی مقبولیت کا ذمہ دار پاکستان اور دیگر ممالک کے بوٹ فارمز کو قرار دے دیا؛ ماہرین نے اسے زمینی حقائق سے توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دیا ہے۔

May 11, 2026

بنوں حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملنے پر افغان ناظم الامور کی دفترِ خارجہ طلبی؛ پاکستان نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف فیصلہ کن جواب دینے کی وارننگ دے دی۔

May 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *