ارومچی: چین کی ثالثی میں پاکستان اور افغان حکام کے درمیان پانچ روزہ تکنیکی مذاکرات کا دور مکمل ہو گیا، جس میں اہم سکیورٹی اور سرحدی امور پر پیشرفت سامنے آئی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں فریقین نے اپنے مؤقف اور شرائط چینی ثالثوں کے ذریعے ایک دوسرے تک پہنچا دی ہیں، جبکہ حتمی ردعمل اسلام آباد اور قندہار کی قیادت کی جانب سے مقررہ وقت میں دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران افغان طالبان کی جانب سے کچھ مطالبات کو چینی ثالثوں نے غیر معقول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
مذاکرات میں پاکستان نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کے حوالے سے تحریری یقین دہانی فراہم کریں، جس کے تحت ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کیا جائے، سرحد سے دور منتقل کیا جائے اور اسے غیر جنگجو حیثیت میں رکھا جائے۔
دونوں فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف پراکسی کارروائیوں کیلئے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق افغان فریق نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ کسی تیسرے ملک کو پاکستان کے خلاف اقدامات کیلئے افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مذاکرات میں یہ بھی طے پایا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور اعلیٰ سطحی ملاقاتیں بھی جلد متوقع ہیں، جن کا انعقاد دونوں حکومتوں کی منظوری سے ہوگا۔
چینی حکام نے مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے مثبت پیشرفت قرار دیا، جبکہ شرکاء کی جانب سے میڈیا سے گریز کو بھی سنجیدہ سفارتی عمل کا حصہ قرار دیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات پاک۔افغان تعلقات میں کشیدگی کم کرنے اور سرحدی سکیورٹی کے مسائل کے حل کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتے ہیں۔