...
وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ یہ خصوصی رعایت تین ماہ کیلئے دی گئی ہے جو 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک نافذالعمل رہے گی، اور اس اقدام سے برآمد کنندگان کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔

March 29, 2026

جنگ کے آغاز کے بعد سے بھارتی روپیہ تقریباً 4.2 فیصد تک کمزور ہو چکا ہے، جس سے درآمدی لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے

March 29, 2026

مظاہروں کا دائرہ مزید پھیل رہا ہے اور اتوار کے روز امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں

March 29, 2026

امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

March 29, 2026

اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنا، جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا ہے

March 29, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسحاق ڈار کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر ری ٹویٹ کیا، جسے عالمی سطح پر اس اقدام کی اہمیت اور پذیرائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

March 29, 2026

پاکستان کا بڑا تجارتی فیصلہ، ایران و وسطی ایشیا کو برآمدات کیلئے خصوصی رعایت کا اعلان

وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ یہ خصوصی رعایت تین ماہ کیلئے دی گئی ہے جو 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک نافذالعمل رہے گی، اور اس اقدام سے برآمد کنندگان کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔
پاکستان کا ایران اور مشرق وسطی کے لئے تجارتی اقدام

ایران، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو زمینی راستے کے ذریعے برآمدات کیلئے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط سے عارضی استثنیٰ دیا گیا ہے

March 29, 2026

اسلام آباد: پاکستان نے ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ کیلئے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے چاول، سمندری خوراک، فارماسیوٹیکل مصنوعات سمیت متعدد اشیاء کی برآمد کی اجازت دے دی ہے، جبکہ مالیاتی شرائط میں بھی عارضی نرمی دی گئی ہے۔

وزارت تجارت کے اعلامیے کے مطابق ایران، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو زمینی راستے کے ذریعے برآمدات کیلئے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط سے عارضی استثنیٰ دیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چاول، سمندری خوراک، آلو، گوشت، پیاز، مکئی اور مختلف پھلوں کے ساتھ ساتھ فارماسیوٹیکل مصنوعات اور ٹینٹس کی برآمد بھی اس رعایت میں شامل ہیں۔

وزارت تجارت کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ضوابط میں جزوی نرمی دی گئی ہے، تاہم برآمدی آمدن کو مقررہ مدت میں ملک واپس لانے کی شرط برقرار رکھی گئی ہے۔

وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہا کہ یہ خصوصی رعایت تین ماہ کیلئے دی گئی ہے جو 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک نافذالعمل رہے گی، اور اس اقدام سے برآمد کنندگان کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے راستے تجارت کے فروغ سے نہ صرف علاقائی روابط مضبوط ہوں گے بلکہ برآمدات میں اضافہ ہو کر ملکی معیشت کو استحکام ملے گا۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم تجارتی کوریڈور کے طور پر مستحکم کرنے کی جانب اہم قدم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی تجارتی راستے تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

دیکھئیے:آئی ایم ایف کا پاکستان کی معاشی اصلاحات پر اطمینان، تیسرے جائزے کے بعد نئے فنڈز کی منظوری

متعلقہ مضامین

جنگ کے آغاز کے بعد سے بھارتی روپیہ تقریباً 4.2 فیصد تک کمزور ہو چکا ہے، جس سے درآمدی لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے

March 29, 2026

مظاہروں کا دائرہ مزید پھیل رہا ہے اور اتوار کے روز امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں 3200 سے زائد احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں

March 29, 2026

امریکا کسی طویل زمینی جنگ میں نہیں الجھنا چاہتا بلکہ محدود اور ہدفی کارروائیوں کے بعد واپسی کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

March 29, 2026

اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنا، جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا اور مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا ہے

March 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.