پاکستان نے حالیہ خودکش حملوں کے تناظر میں سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ اور محدود نوعیت کی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق 21 فروری 2026 کو کہا گیا ہے کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات، جن میں اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں حملے شامل ہیں جبکہ آج بنوں میں ماہِ رمضان کے دوران پیش آنے والا واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، کے بارے میں پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ کارروائیاں خوارج نے اپنی افغانستان میں موجود قیادت اور ہینڈلرز کی ہدایت پر کیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، جو فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور داعش نے قبول کی۔
Press Release
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) February 21, 2026
21 February, 2026
In the aftermath of recent suicide bombing incidents in Pakistan, including Imam Bargah at Islamabad, one each in Bajaur and Bannu followed by another incident today in Bannu during the holy month of Ramzan, Pakistan has conclusive evidence that…
پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان طالبان حکومت کو متعدد بار کہا گیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو، تاہم افغان عبوری حکومت کی جانب سے مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
پریس ریلیز کے مطابق پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں فتنہ الخوارج اور اس سے وابستہ گروہوں اور داعش کے سات دہشت گرد کیمپس اور ٹھکانوں کو نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔
پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور خوارج و دیگر دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی عوام کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ ساتھ ہی بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری پر آمادہ کرے تاکہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام یقینی بنایا جا سکے۔