پاکستان نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان نے کہا ہے کہ شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایسے حملے شہریوں کی زندگیوں، قومی خودمختاری اور علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ انہیں کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حوثی حملے روکنے کا مطالبہ
پاکستان نے سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے ساتھ آر 4 فریم ورک کے تحت حوثی حملے فوری اور غیر مشروط طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے کہا کہ شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے اور علاقائی امن کو نقصان پہنچانے والوں کو جواب دہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
پاکستان نے حملے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہری کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ شہری تنصیبات پر حملوں کی روک تھام کے لیے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
سعودی عرب کی حمایت
پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ برادرانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی عرب کے دفاع کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان کے مطابق وہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے تحت سعودی عرب کو اپنی سرزمین، آبادی اور اہم تنصیبات کے دفاع کا حق حاصل ہے۔ پاکستان نے اس حق کی حمایت کرتے ہوئے شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی روک تھام پر زور دیا۔
پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے تحفظ کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔





