پاکستان نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے ای1 میں اسرائیل کی جانب سے 3 ہزار 400 سے زائد نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسلام آباد نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس اشتعال انگیز اقدام کو فوری طور پر روکنے کے لیے موثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غیر قانونی بستیوں کی یہ توسیع فلسطینی زمین کے جغرافیائی تسلسل کو شدید متاثر کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی عالمی کوششوں کو زبردست نقصان پہنچانا ہے، جس سے خطے میں پائیدار امن کے امکانات مزید معدوم ہو جائیں گے۔
پاکستان نے نشاندہی کی ہے کہ اس منصوبے کی عملداری سے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں کے درمیان باہمی رابطہ اور نقل و حمل انتہائی محدود ہو کر رہ جائے گی۔ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی ورزی کے مترادف ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان نے اپنے بنیادی اور دیرینہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا واحد، منصفانہ اور پائیدار حل فلسطینی عوام کے مسلمہ حقِ خودارادیت کی کامل تسلیم میں مضمر ہے۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک ایسی آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کی مکمل حمایت کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔