پاکستانی حکام نے حالیہ دنوں پاک افغان تجارت سے متعلق خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرحد 11 اکتوبر کو دیگر وجوہات کے ساتھ اس لیے بند کی گئی کہ پاکستان کو اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے باعث سالانہ 4.4 کھرب روپے سے زائد کے نقصانات کا سامنا تھا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ اقدام سیاسی ردِعمل کے طور پر نہیں بلکہ معاشی حکمتِ عملی اور غیر قانونی تجارت کو ختم کرنا ہے جو منشیات، عسکریت پسند اور خوارج کے داخلے کا راستہ بنی ہوئی تھی۔
حکام کے مطابق صرف وہی راستے بند کیے گئے جہاں سے اسمگلنگ، منشیات اور سرحد پار دہشت گردی کے نیٹ ورک سرگرم تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مذکورہ اقدام سے معاشی استحکام اور امن و سلامتی کو تقویت ملے گی۔ دیکھا جائے تو دوسری جانب سرحدی بندش نے افغان معیشت کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستان کو اب تک 20 کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ طورخم واحد راستہ ہے جہاں سے ایک ماہ میں 45 لاکھ ڈالر کا نقصان سامنے آیا ہے۔ اسی طرح پانچ ہزار سے زائد ٹرک سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں اور افغان پھل و سبزیاں ضائع ہورہی ہیں۔
دوسری جانب ترسیلی مدت بھی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ کراچی کے ذریعے 3 سے 4 روز میں پہنچنے والا سامان اب ایران کے راستے 6 سے 8 روز میں پہنچ رہا ہے جبکہ وسطی ایشیائی راستوں سے ایک ماہ سے زائد کی مدت میں پہنچ رہا ہے۔ اسی طرح ایران کے راستے اخراجات میں 50 سے 60 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جو ہر کنٹینر پر تقریباً 2,500 ڈالر کا اضافی بوجھ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بحران نے افغانستان کی پاکستان پر 70 سے 80 فیصد تجارتی انحصار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ افغانستان کی نصف سے زائد ادویات بھی پاکستان کے راستے گزرتی ہیں جبکہ اسمگلنگ رک جانے کے سبب افغانستان میں دو لاکھ سے زائد افراد غیر قانونی تجارت سے وابستہ ہونے کے باعث روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔
اسکے برعکس مذکورہ اقدام سے پاکستان میں روزمرہ زندگی پرکوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے کیونکہ افغان سامان کی اکثریت غیر ضروری یا پرتعیش اشیاء پر مشتمل تھی۔ حکام کے مطابق پاکستان کی تجارتی سپلائی چینیں، خصوصاً چین کے ساتھ زمینی تجارت اور سی پیک کے راستے معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔
اس موقع پر ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان آئندہ ایک دہائی کے اندر اندر مذکورہ اقدام کے مثبت نتائج دیکھے گا جن میں سرحدی امن، سیکیورٹی، معاشی استحکام اور منظم تجارت شامل ہیں۔ ساتھ ہی یہ صورتحال افغانستان کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ اپنے تجارتی راستوں کو ایران اور وسطی ایشیا کی جانب رُخ دے باوجود کم منافع میں۔
دیکھیں: افغانستان میں عدم استحکام یا رجیم چینج کا کوئی ارادہ نہیں، واحد مطالبہ دراندازی روکنا ہے؛ پاکستان