اسلام آباد/قاہرہ: ایران پر ممکنہ امریکی حملوں کی ڈیڈ لائن قریب آنے کے ساتھ ہی پاکستان اور مصر نے کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کیلئے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں، جبکہ دونوں ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی جریدے بلوم برگ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان اور مصر کے اعلیٰ حکام کے درمیان متعدد ٹیلی فونک رابطے ہوئے، جن کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں سہولت کاری کر رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان کے ذریعے ایران سے رابطے میں ہیں۔
مصری وزیر خارجہ کے مطابق انہوں نے امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی بات چیت کی ہے تاکہ سفارتی حل کی راہ نکالی جا سکے۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم امریکہ کے مؤقف میں تاحال کوئی نرمی نہیں آئی۔
پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان کی جانب سے جنگ روکنے کیلئے کی جانے والی سفارتی کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، اور اس حوالے سے مزید پیش رفت متوقع ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے، جنہوں نے حالیہ بیان میں ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ “ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو سکتی ہے”۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک جانب سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب سخت بیانات خطے میں صورتحال کو مزید نازک بنا رہے ہیں، جس کے باعث عالمی برادری کی نظریں پاکستان اور مصر کی ثالثی پر مرکوز ہو گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں تو خطے کو بڑے تصادم سے بچایا جا سکتا ہے، بصورت دیگر صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ موجود ہے۔
دیکھئیے:ڈیل نہ ہوئی تو آج رات ایران کی تہذیب صفحہ ہستی سے مٹا دوں گا، ٹرمپ کی ایران کو فائنل وارننگ