پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع میں خود کو کسی ایک فریق کا نمائندہ بنانے کے بجائے امن اور علاقائی استحکام کے لیے آزاد اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کے ایران، سعودی عرب، امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ بیک وقت فعال تعلقات اسے مختلف فریقوں کے درمیان مؤثر رابطے کا منفرد موقع دیتے ہیں۔ اسلام آباد انہی سفارتی روابط کو استعمال کرتے ہوئے حریف فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور ایک پائیدار و جامع حل کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان کے مطابق خلیجی ممالک خود تنازع سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ یورپی ممالک کے تعلقات میں بھی ماضی کے واقعات کے باعث اعتماد کا فقدان موجود ہے۔ ایسے میں پاکستان کو ایک نسبتاً متوازن اور قابلِ عمل سفارتی راستہ سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ جنگ کا مذاکرات کے ذریعے حل پاکستان کے اپنے قومی مفادات کے لیے بھی ضروری ہے۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد، خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر، توانائی کی ضروریات، تجارت اور دفاعی تعاون سمیت کئی عوامل پاکستان کے لیے علاقائی امن کو اہم بناتے ہیں۔
پاکستان کو آبنائے ہرمز اور باب المندب میں کسی طویل رکاوٹ سے بھی تشویش ہے، کیونکہ اس سے توانائی کی فراہمی، بحری تجارت اور مال برداری کے اخراجات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اسلام آباد خطے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلنے کے خطرے کو بھی اپنے داخلی استحکام کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی کوشش محض عارضی جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ ایک پُرامن، پائیدار اور جامع تصفیے کے لیے مذاکرات کا راستہ کھولنا ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سفارتی رابطے کو باقاعدہ مذاکراتی فریم ورک میں تبدیل کرنے کی ایک اہم مثال قرار دیتا ہے۔