مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان ایک غیر رسمی مگر مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آنا خطے کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اسلام آباد کی “خاموش سفارت کاری” نہ صرف دہائیوں پر محیط سفارتی تجربے کا تسلسل ہے بلکہ یہ پاکستان کی تزویراتی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے

March 27, 2026

کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کابل کے سفارتی انکلیو کی کثیر المنزلہ عمارت میں منتقل۔ انسانی ڈھال کے استعمال اور افغان طالبان کی مبینہ سرپرستی پر سکیورٹی حکام کا اظہارِ تشویش

March 27, 2026

ماہرِ توانائی و معیشت محمد عارف کے مطابق او جی ڈی سی ایل کی حالیہ کارکردگی آئل اینڈ گیس کی دریافتوں کے حوالے سے بہترین ہے ۔

March 27, 2026

مقامی ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے قریب آ کر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں مولانا عابد علی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

March 27, 2026

افغانستان میں واقعی شریعت نافذ ہے؟ تحقیق نے طالبان کے نظام کو ‘مطلق العنان بادشاہت’ قرار دے دیا ہے کس طرح قندھار سے جاری ہونے والے ‘فرامین’ نے کابل کی انتظامیہ کو مفلوج کر دیا ہے اور بیعت کا تصور جبر میں بدل چکا ہے

March 27, 2026

امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں طالبان کے خلاف قوانین کی تیاری؛ خواتین پر پابندیوں کو عالمی جرائم قرار دینے کی تجویز۔ امریکی فنڈز کو طالبان تک پہنچنے سے روکنے کے لیے امدادی طریقۂ کار میں بڑی تبدیلیوں کا امکان

March 27, 2026

تاریخی تسلسل برقرار: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے پاکستان کا کلیدی اور غیر جانبدارانہ کردار

مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کا امریکہ اور ایران کے درمیان ایک غیر رسمی مگر مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آنا خطے کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اسلام آباد کی “خاموش سفارت کاری” نہ صرف دہائیوں پر محیط سفارتی تجربے کا تسلسل ہے بلکہ یہ پاکستان کی تزویراتی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے
اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مؤثر رابطہ پل کا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں دونوں ممالک کے پیغامات ایک دوسرے تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق ترکی اور مصر بھی اس عمل میں معاون ہیں، جبکہ اس سفارت کاری کے باعث کشیدگی میں وقتی کمی دیکھی گئی ہے

پاکستان ماضی میں بھی اہم سفارتی کردار ادا کرتا رہا ہے، جن میں 1972 میں امریکہ۔ چین رابطے، 1988 کا جنیوا معاہدہ اور دوحہ مذاکرات شامل ہیں۔ یہی تجربہ آج اسے ایک بار پھر خطے میں مؤثر ثالث کے طور پر سامنے لا رہا ہے

March 27, 2026

مشرقِ وسطیٰ اس وقت بارود کے ایک ایسے دہکتے ہوئے ڈھیر پر کھڑا ہے جہاں ایک معمولی سی لغزش بھی تیسری عالمی جنگ کے شعلوں کو بھڑکا سکتی ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ مہینوں میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے نہ صرف خطے کے استحکام کو متزلزل کیا ہے بلکہ عالمی معیشت اور امنِ عامہ کو بھی ایک سنگین خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ ان حالات میں جب سفارت کاری کے روایتی راستے مسدود نظر آ رہے تھے، پاکستان کا ایک ‘کلیدی ثالث’ کے طور پر ابھرنا بین الاقوامی سیاست کے افق پر ایک غیر متوقع مگر نہایت اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ اسلام آباد نے جس مہارت کے ساتھ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ‘خاموش سفارت کاری’ کا آغاز کرتے ہوئے ایک ‘مواصلاتی پل’ کا کردار سنبھالا ہے، وہ پاکستان کی منجھی ہوئی خارجہ پالیسی اور اس کی تزویراتی اہمیت کا بین ثبوت ہے۔

پاکستان کی یہ حالیہ سفارتی متحرک کوئی وقتی یا اتفاقی واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے پاکستان کا وہ دہائیوں پر محیط تجربہ اور بین الاقوامی اعتبار کارفرما ہے جو اسے خطے کے دیگر ممالک سے ممتاز کرتا ہے۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو پاکستان کا ریکارڈ ایسی حساس اور اعلیٰ سطحی سہولت کاری سے بھرا پڑا ہے۔ 1972 میں جب دنیا سرد جنگ کے حصار میں تھی، تب اس وقت کے پاکستانی صدر یحییٰ خان نے امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ رابطوں کے لیے وہ بنیاد فراہم کی تھی جس نے صدر رچرڈ نکسن کے تاریخی دورہ چین کی راہ ہموار کی اور عالمی سیاست کا رخ بدل دیا۔ اسی طرح 1988 کا جنیوا معاہدہ ہو، جس کے تحت سوویت افواج کا افغانستان سے انخلا ممکن ہوا، یا حالیہ برسوں میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے دوحہ مذاکرات پاکستان نے ہمیشہ ایک ایسے بااعتماد سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے جس پر عالمی طاقتیں مشکل وقت میں بھروسہ کرتی آئی ہیں۔

آج جب مشرقِ وسطیٰ کے روایتی ثالث جیسے عمان اور قطر، سنگین علاقائی دباؤ اور تزویراتی مجبوریاں کا شکار ہیں، پاکستان کی جغرافیائی قربت اور اس کے متوازن تعلقات نے اسے ایک ناگزیر فریق بنا دیا ہے۔ تہران کے ساتھ برادرانہ اور جغرافیائی وابستگی اور واشنگٹن کے ساتھ دہائیوں پر محیط عسکری و سفارتی شراکت داری نے اسلام آباد کو وہ منفرد مقام عطا کیا ہے کہ وہ دونوں دارالحکومتوں کے درمیان بالواسطہ پیغامات کی ترسیل کا سب سے معتبر ذریعہ بن گیا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ بیانات کہ ترکی اور مصر بھی اس عمل میں پاکستان کی معاونت کر رہے ہیں، اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ ایک وسیع البنیاد سفارتی مشن ہے جس کا مقصد خطے کو ایک بڑے المیے سے بچانا ہے۔ اس ‘خاموش سفارت کاری’ کے ثمرات اب واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی توانائی کے ڈھانچے پر حملوں کی دھمکیوں میں آنے والی حالیہ نرمی اور تہران کا محتاط ردعمل اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ مذاکرات کی میز پر ہونے والی گفتگو میدانِ جنگ کی تپش کو کم کر رہی ہے۔

تاہم یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ پاکستان کا یہ کردار محض عالمی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ہے۔ درحقیقت، اس ثالثی کے پیچھے پاکستان کے اپنے گہرے معاشی اور قومی مفادات وابستہ ہیں۔ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جس کی معاشی شہ رگ مشرقِ وسطیٰ کے استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ ہم اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک خلیجی ممالک کے تیل پر انحصار کرتے ہیں اور وہاں مقیم 50 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی وسیع جنگ کا مطلب عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا آسمان سے باتیں کرنا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان کے عام شہری پر مہنگائی کے طوفان کی صورت میں پڑتا ہے۔ حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والا 20 فیصد اضافہ اس تلخ حقیقت کا محض ایک پیش خیمہ ہے۔ لہٰذا، واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی راہ ہموار کرنا پاکستان کے اپنے معاشی اور داخلی استحکام کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، وہ بھی کم نہیں۔ ایک طرف امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور ‘بورڈ آف پیس’ میں شمولیت ہے، تو دوسری طرف ایران کے ساتھ سرحد پار سکیورٹی اور گیس پائپ لائن جیسے حساس معاملات ہیں۔ پاکستان کو نہایت احتیاط کے ساتھ اس ‘سفارتی تنی ہوئی رسی’ پر چلنا ہوگا تاکہ کسی ایک فریق کی حمایت کا تاثر نہ ابھرے بلکہ ایک غیر جانبدار اور مخلص ثالث کی تصویر برقرار رہے۔ ترکی اور مصر کی شمولیت اس عمل کو بین الاقوامی ساکھ فراہم کر رہی ہے، جو کہ پاکستان کی تنہائی پسندی کے تاثر کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ محض ایک ایٹمی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست ہے جو عالمی امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ پاکستانی قیادت اس سفارتی پیش رفت کو صرف وقتی جنگ بندی تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے ایک مستقل علاقائی تعاون کے فریم ورک میں بدلنے کی کوشش کرے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں صرف تباہی لاتی ہیں، جبکہ مکالمہ وہ واحد راستہ ہے جو اقوام کو بقا اور خوشحالی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ پاکستان نے امن کی اس شمع کو روشن کر دیا ہے، اب عالمی طاقتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور مشرقِ وسطیٰ کو خونریزی کے ایک نئے چکر سے بچائیں۔

متعلقہ مضامین

کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کابل کے سفارتی انکلیو کی کثیر المنزلہ عمارت میں منتقل۔ انسانی ڈھال کے استعمال اور افغان طالبان کی مبینہ سرپرستی پر سکیورٹی حکام کا اظہارِ تشویش

March 27, 2026

ماہرِ توانائی و معیشت محمد عارف کے مطابق او جی ڈی سی ایل کی حالیہ کارکردگی آئل اینڈ گیس کی دریافتوں کے حوالے سے بہترین ہے ۔

March 27, 2026

مقامی ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے قریب آ کر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں مولانا عابد علی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

March 27, 2026

افغانستان میں واقعی شریعت نافذ ہے؟ تحقیق نے طالبان کے نظام کو ‘مطلق العنان بادشاہت’ قرار دے دیا ہے کس طرح قندھار سے جاری ہونے والے ‘فرامین’ نے کابل کی انتظامیہ کو مفلوج کر دیا ہے اور بیعت کا تصور جبر میں بدل چکا ہے

March 27, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *