پاکستان سمیت 19 مسلم اور اہم عالمی ممالک نے کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے کے فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ تمام ممالک نے مشترکہ طور پر اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، فلسطین، اردن، انڈونیشیا، ملائیشیا، الجزائر، عمان، کویت، لبنان، لیبیا، جبوتی، صومالیہ، شام، سوڈان اور یمن کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ مقبوضہ یروشلم کی قانونی یا تاریخی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا کوئی بھی اقدام مکمل طور پر غیر قانونی اور بے اثر ہے۔
🔊PR No.2️⃣9️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) October 16, 2026
Joint Statement by the Foreign Ministers of the Islamic Republic of Pakistan, Algeria, Djibouti, Egypt, Indonesia, Jordan, Kuwait, Lebanon, Libya, Malaysia, Oman, Palestine, Qatar, Saudi Arabia, Somalia, Syria, Sudan and Türkiye
🔗⬇️ pic.twitter.com/DEkSfSUmsE
وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ یہ یکطرفہ فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں 476 اور 478 کے صریحاً منافی ہے۔ یہ قراردادیں یروشلم کی حیثیت تبدیل کرنے کی تمام کوششوں کو رد کرتی ہیں اور رکن ممالک کو وہاں سفارتی مشنز قائم نہ کرنے کی ہدایت کرتی ہیں۔
تمام 19 ممالک کے وزرائے خارجہ نے کولمبیا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کی حساس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اپنے اس فیصلے پر فوری نظرثانی کرے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اسے واپس لے۔
مشترکہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اس نوعیت کے یکطرفہ اقدامات سے فلسطینی عوام کے جائز اور مسلمہ حقوق کسی صورت متاثر نہیں ہو سکتے، جن میں مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے۔





