افغان طالبان کی جانب سے جمعہ کے روز پاکستان پر کیے گئے ڈرون حملوں اور سرحدی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کے بعد خطے میں فوجی کشیدگی انتہاء کو پہنچ گئی ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے کسی بھی وقت انتہائی سخت فوجی ردِعمل سامنے آنے کا امکان ہے، جس کے تحت افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے بعض اہم فوجی اہداف کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کابل حکومت کے مرکزی ہنماؤں نے ممکنہ فضائی حملوں کے پیشِ نظر حساس علاقوں سے انخلا شروع کر دیا ہے۔
ڈرون ٹیکنالوجی اور بگرام پر کاری ضرب
سکیورٹی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان کی جانب سے لانچ کیے گئے ایک مبینہ ‘خودکش ڈرون’ کے بغیر پھٹے زمین پر گرنے سے تفتیش کاروں کو اس کی ساخت اور پرواز کے ڈیٹا تک رسائی مل گئی ہے، جس سے اس کے لانچنگ پیڈ کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔ مزید برآں، حالیہ پاکستانی فضائی کاروائیوں میں بگرام ایئر بیس پر قائم ایک ڈرون اسمبلنگ یونٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں ڈرونز اور اسلحہ کے ذخائر ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔
Imminent Pakistan military response
— Ayaz Gul (@AyazGul64) March 14, 2026
Taliban Defense Ministry’s drone attack against Pakistan on Friday and subsequent firing at border posts are likely to provoke a strong response, with airstrikes targeting military sites in Afghanistan sooner rather than later, amid reports… pic.twitter.com/SlHWb3maQe
چین کی ثالثی اور پاکستان کا دوٹوک مؤقف
بیجنگ کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کے جواب میں پاکستان نے چین کو واضح کر دیا ہے کہ وہ سرحدوں کو دوبارہ کھولنے یا فوجی دباؤ میں کمی پر اس وقت تک غور نہیں کرے گا جب تک کابل حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی قیادت میں کام کرنے والے نیٹ ورکس کا صفایا نہیں کرتی۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے گزشتہ چار برسوں میں افغانستان کے 22 مطالبات تسلیم کیے، لیکن بدلے میں پاکستان کو صرف لاشیں ملیں اور تقریباً چار ہزار سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
ای ٹی آئی ایم اور اقوام متحدہ کی رپورٹ
اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی حالیہ رپورٹ نے طالبان کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے کہ افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہ موجود نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین مخالف عسکریت پسند تنظیم ‘ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ’ کے ارکان کو نہ صرف طالبان کی سرپرستی حاصل ہے بلکہ 2025 میں اس تنظیم کے 250 ارکان طالبان پولیس فورس میں بھی شامل کیے گئے۔ یہ عناصر اب بدخشاں میں جمع ہو رہے ہیں تاکہ مستقبل میں سنکیانگ میں کاروائیاں کر سکیں۔
پاکستان کا مطالبہ
پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ اگر چین طالبان پر دباؤ ڈالے کہ وہ ای ٹی آئی ایم کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس سے لاتعلقی اختیار کریں، تو اس سے خطے کے سکیورٹی خدشات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ فی الوقت، پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر ممکنہ فوجی اقدام کے لیے الرٹ ہے اور کابل سے دہشت گردوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا تقاضا کر رہا ہے۔