امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے 5 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے حملے کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔

September 9, 2026

ڈی ایچ کیو ہسپتال ٹانک کے مین میڈیسن اسٹور میں سرکاری معائنے کے دوران سنگین بے ضابطگیاں سامنے آنے پر اسٹور کیپر معطل، 3 روز میں تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی گئی۔

September 8, 2026

دخشاں کے ضلع کوہستان راغ میں طالبان کے سکیورٹی کمانڈ مرکز پر راکٹ حملہ ہوا، جبکہ زیبک میں اے ایف ایف نے 4 طالبان اہلکار ہلاک اور 7 زخمی کرنے کا دعویٰ کیا۔

September 8, 2026

ایڈم وائن اسٹائن کے مطابق پاکستان اب خلیجی دفاعی تعاون، امریکا ایران رابطوں اور معاشی امکانات کے باعث اہم علاقائی شراکت دار بن رہا ہے۔

September 8, 2026

جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے قبائلی رہنما ملک نائب محمد محسود کو قتل کردیا۔ حملہ آور پہاڑی علاقے کی جانب فرار ہوگئے۔

September 8, 2026

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حملوں کی شدید مذمت کردی۔

September 8, 2026

افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر پاکستان کا فضائی حملہ؛ طالبان کے شہری ہلاکتوں کے دعوے مسترد

پاکستان کا افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر کامیاب فضائی آپریشن؛ طالبان کا شہری ہلاکتوں کا دعویٰ مسترد۔ صدر زرداری کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں سے سرخ لکیر عبور کر لی گئی ہے
پاکستان کا افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر کامیاب فضائی آپریشن؛ طالبان کا شہری ہلاکتوں کا دعویٰ مسترد۔ صدر زرداری کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں سے سرخ لکیر عبور کر لی گئی ہے

پاکستان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانے تباہ کر دیے۔ طالبان کا شہری ہلاکتوں کا الزام،

March 14, 2026

پاکستان نے افغانستان میں انٹیلی جنس پر مبنی فضائی آپریشن میں تحریک طالبان پاکستان کے چار اہم ٹھکانوں اور ان سے منسلک عسکری ڈھانچوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ یہ کاروائی ایسے وقت میں کی گئی جب پاکستان کے شمال مغربی ضلع لکی مروت میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار شہید ہوئے، جس کا شبہ کالعدم ٹی ٹی پی پر کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق، پاکستانی طیاروں نے صرف دہشت گردوں کے کیمپوں کو ہدف بنایا اور کسی بھی شہری آبادی کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

طالبان انتظامیہ کا مؤقف اور الزامات

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان حملوں میں چھ شہریوں کی ہلاکت اور بارہ کے زخمی ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ افغان ترجمان کا دعویٰ ہے کہ قندھار ایئرپورٹ کے قریب ‘کام ایئر’ کے ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا جو اقوام متحدہ کے طیاروں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم، پاکستانی حکام نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان اپنی حدود میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر حد تک جانے کا حق رکھتا ہے اور عسکریت پسندوں کے مراکز کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

صدر زرداری کی تنبیہ: ‘سرخ لکیر عبور ہو چکی’

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کے شہری علاقوں پر افغان طالبان کے ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ صدرِ مملکت نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ “افغان طالبان نے شہری اہداف پر ڈرونز کا استعمال کر کے سرخ لکیر عبور کر لی ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ افغان سرزمین کا ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ناقابلِ قبول ہے، اور پاکستان اپنے عوام کے تحفظ اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

وزارتِ اطلاعات کا فیکٹ چیک

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے جاری کشیدگی کے تناظر میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی من گھڑت اطلاعات کا فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے عالمی قوانین کے مطابق صرف ان دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جو سرحد پار سے حملوں میں ملوث تھے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دشمن کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں۔

متعلقہ مضامین

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے 5 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے حملے کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔

September 9, 2026

ڈی ایچ کیو ہسپتال ٹانک کے مین میڈیسن اسٹور میں سرکاری معائنے کے دوران سنگین بے ضابطگیاں سامنے آنے پر اسٹور کیپر معطل، 3 روز میں تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی گئی۔

September 8, 2026

دخشاں کے ضلع کوہستان راغ میں طالبان کے سکیورٹی کمانڈ مرکز پر راکٹ حملہ ہوا، جبکہ زیبک میں اے ایف ایف نے 4 طالبان اہلکار ہلاک اور 7 زخمی کرنے کا دعویٰ کیا۔

September 8, 2026

ایڈم وائن اسٹائن کے مطابق پاکستان اب خلیجی دفاعی تعاون، امریکا ایران رابطوں اور معاشی امکانات کے باعث اہم علاقائی شراکت دار بن رہا ہے۔

September 8, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *