مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر پاکستان کا فضائی حملہ؛ طالبان کے شہری ہلاکتوں کے دعوے مسترد

پاکستان کا افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر کامیاب فضائی آپریشن؛ طالبان کا شہری ہلاکتوں کا دعویٰ مسترد۔ صدر زرداری کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں سے سرخ لکیر عبور کر لی گئی ہے
پاکستان کا افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر کامیاب فضائی آپریشن؛ طالبان کا شہری ہلاکتوں کا دعویٰ مسترد۔ صدر زرداری کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں سے سرخ لکیر عبور کر لی گئی ہے

پاکستان نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانے تباہ کر دیے۔ طالبان کا شہری ہلاکتوں کا الزام،

March 14, 2026

پاکستان نے افغانستان میں انٹیلی جنس پر مبنی فضائی آپریشن میں تحریک طالبان پاکستان کے چار اہم ٹھکانوں اور ان سے منسلک عسکری ڈھانچوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ یہ کاروائی ایسے وقت میں کی گئی جب پاکستان کے شمال مغربی ضلع لکی مروت میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار شہید ہوئے، جس کا شبہ کالعدم ٹی ٹی پی پر کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق، پاکستانی طیاروں نے صرف دہشت گردوں کے کیمپوں کو ہدف بنایا اور کسی بھی شہری آبادی کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔

طالبان انتظامیہ کا مؤقف اور الزامات

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان حملوں میں چھ شہریوں کی ہلاکت اور بارہ کے زخمی ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ افغان ترجمان کا دعویٰ ہے کہ قندھار ایئرپورٹ کے قریب ‘کام ایئر’ کے ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا جو اقوام متحدہ کے طیاروں کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم، پاکستانی حکام نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان اپنی حدود میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر حد تک جانے کا حق رکھتا ہے اور عسکریت پسندوں کے مراکز کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

صدر زرداری کی تنبیہ: ‘سرخ لکیر عبور ہو چکی’

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پاکستان کے شہری علاقوں پر افغان طالبان کے ڈرون حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ صدرِ مملکت نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ “افغان طالبان نے شہری اہداف پر ڈرونز کا استعمال کر کے سرخ لکیر عبور کر لی ہے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ افغان سرزمین کا ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ناقابلِ قبول ہے، اور پاکستان اپنے عوام کے تحفظ اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

وزارتِ اطلاعات کا فیکٹ چیک

وزارتِ اطلاعات و نشریات نے جاری کشیدگی کے تناظر میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی من گھڑت اطلاعات کا فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے عالمی قوانین کے مطابق صرف ان دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جو سرحد پار سے حملوں میں ملوث تھے۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دشمن کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *