پاکستان کو کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو کی ایگزیکٹو کونسل کے لیے 2026 سے 2028 تک کی مدت کے لیے دوبارہ منتخب کر لیا گیا ہے۔ مذکورہ انتخاب سی ای پی کے 30ویں اجلاس کے موقع پر کیا گیا جو 24 تا 28 نومبر 2025 کو نیدرلینڈز میں انعقاد پذیر ہے۔محکمۂ خارجہ کے مطابق او پی سی ڈبلیو کی ایگزیکٹو کونسل میں پاکستان کی مذکورہ انتخاب کو بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تعمیری اور فعال کردار کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
🔊PR No.3️⃣5️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣5️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 26, 2025
Pakistan Re-elected to the Executive Council of the Organisation for the Prohibition of Chemical Weapons OPCWhttps://t.co/BM57STAwX7
🔗⬇️ pic.twitter.com/HFs9pXPaA7
کنونشن کی عالمی اہمیت
کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق او پی سی ڈبلیو قائم ہوئی, جسکا بنیادی مقصد کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام ہے۔ دنیا کے 193 رکن ممالک کے ساتھ اسلحہ کے میدان میں ایک انتہائی کامیاب بین الاقوامی معاہدہ تصور کیا جاتا ہے۔ مذکورہ معاہدے نے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی ایک پوری قسم کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔
ایگزیکٹو کونسل کے فرائض
او پی سی ڈبلیو کی ایگزیکٹو کونسل تنظیم کا ایک اہم ادارہ ہے جو رُکن ممالک میں کیمیا کے پرامن استعمال کو فروغ دینے اور بے دریغ استعمال کرنے پر پابندی عائد کرتا ہے اور انہیں سائنسی و تکنیکی معاونت فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
پاکستان کا مستقل شراکت دار ہونے کا درجہ
پاکستان نے 1997 میں سی ڈبلیو سی کی توثیق کے بعد سے ایگزیکٹو کونسل میں مسلسل اور نمایاں شراکت کی ہے۔ پاکستان باقاعدگی سے او پی سی ڈبلیو کے معیاری معائنوں کی میزبانی کرتا آیا ہے اور کنونشن کے مقاصد کی تکمیل کے لیے ہمیشہ مؤثر کردار ادا کرتا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی برادری کی جانب سے پاکستان کو دوبارہ منتخب کیا جانا ریاستِ پاکستان کے لیے باعثِ اعزاز ہے کہ پاکستان نہ صرف کیمیکل ہتھیاروں کے خاتمے کے عالمی نظام میں ایک شراکت دار ہے بلکہ وہ تنظیم کے کام میں مؤثر قیادت فراہم کرنے کی صلاحیت کا بھی حامل ہے۔
دیکھیں: پاکستانی حکام نے افغانستان میں مبینہ فضائی کارروائیوں کے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا