افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کی جانب سے جاری کردہ انفوگرافک، جس میں فروری 22 سے 4 اپریل 2026 کے دوران پاکستانی فوج پر 741 شہریوں کی ہلاکت کا الزام عائد کیا گیا، کو پاکستانی حکام اور سیکیورٹی ذرائع نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور بے بنیاد پراپیگنڈا قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ بیانیہ ایسے وقت میں سامنے لایا گیا ہے جب پاکستان دہشتگردی کے خلاف ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور سرحدی علاقوں میں شدت پسند نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
حقیقی صورتحال یہ ہے کہ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں گزشتہ چند برسوں کے دوران 5000 سے زائد پاکستانی شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں سیکیورٹی اہلکار بھی ان حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ ان حملوں میں مساجد، مدارس، امام بارگاہوں اور عوامی مقامات کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا گیا، جن میں اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، بنوں اور دیگر شہروں میں بڑے سانحات شامل ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری بڑی حد تک افغان سرزمین سے کی گئی، جہاں دہشتگرد عناصر کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔ ان حملوں کے خودکش بمبار بھی افغان شہری تھے اور وہیں ڈے تربیت حاصل کر کے پاکستان آئے تھے۔ پاکستان نے بارہا ثبوت پیش کیے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے افغان حکومت اور دہشت گرد عناصر کا گٹھ جوڑ ہے جسے بھارت اور دیگر پاکستان دشمن ممالک فنڈ کرتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس امر کی نشاندہی کی جا چکی ہے کہ افغانستان کی سرزمین مختلف دہشتگرد گروہوں کے استعمال میں ہے اور یہ عناصر نہ صرف پاکستان بلکہ چین اور دیگر ممالک کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے جیسی تنظیموں کی قیادت اور نیٹ ورک افغانستان میں موجود ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
اسی تناظر میں پاکستان نے “آپریشن غضب للحق” شروع کیا ہے، جس کا مقصد دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بنانا ہے تاکہ ملک میں امن و استحکام بحال کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں اور ان کا ہدف صرف دہشتگرد عناصر ہیں، نہ کہ عام شہری۔ تجزیہ کاروں کے مطابق افغان ترجمان کی جانب سے پیش کیا گیا سویلین ہلاکتوں کا بیانیہ دراصل ان کارروائیوں کو متنازع بنانے اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں کہ پاکستان خود دہشتگردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک رہا ہے اور اب اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔
دیکھئیے: دہشت گردی کے لیے افغان مہاجرین کا استعمال؛ وزیرستان آپریشن کے بعد اہم حقائق منظرِ عام پر