پاکستان نے جمعہ کے روز افغان طالبان کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ داعش کے تربیتی مراکز پاکستان میں موجود ہیں۔ دفتر خارجہ نے ان الزامات کو “ناقابل قبول، بے بنیاد اور تخیلاتی” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ طالبان ایک ایسے خطرے کو بیرونی قوتوں پر تھوپنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی جڑیں بنیادی طور پر افغانستان کی سرزمین میں موجود ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ اقوام متحدہ کی متعدد رپورٹس کے مطابق داعش-خراسان افغانستان کے صوبوں ننگرہار، کنڑ اور بدخشان میں منظم صلاحیت رکھتی ہے، اور طالبان کے دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔
افغان طالبان کی جانب سے اپنے پروپیگنڈا پلیٹ فارمز المِرصد کے ذریعے مسلسل یہ تاثر پھیلایا جا رہا ہے کہ پاکستان انتہا پسند گروہوں کو پناہ دیتا ہے۔ یہ مہم اس وقت تیز ہوئی جب ترکی میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے۔ مذاکرات کے دوران پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی تعاون پر تحریری معاہدہ مانگا، جبکہ افغان نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب نے اعتراف کیا کہ مذاکرات اس وقت ٹوٹے جب پاکستان نے ٹی ٹی پی کو “دہشت گرد” قرار دینے پر اصرار کیا۔ طالبان نے واضح کیا کہ وہ ٹی ٹی پی کو “اچھے لوگ” قرار دیے بغیر تعاون پر آمادہ نہیں۔
ادھر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی کمیٹی برائے داعش و القاعدہ پابندیاں بھی گزشتہ ہفتے ٹی ٹی پی کو وسطی اور جنوبی ایشیا کے لیے ایک “سنگین خطرہ” قرار دے چکی ہے۔ ڈنمارک نے کمیٹی کی سربراہی کرتے ہوئے بتایا کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان کی ڈی فیکٹو اتھارٹیز کی جانب سے “اہم لاجسٹک اور مادی مدد” حاصل ہے۔
سرحد پار دہشت گردی: علاقائی ممالک کی تشویش میں اضافہ
دفتر خارجہ نے بتایا کہ سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ خطے کے کئی ممالک کا مشترکہ چیلنج ہے۔ تاجکستان نے بھی اپنی 1,350 کلومیٹر طویل افغان سرحد پر سرگرم دہشت گرد گروہوں پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تاجک وزارت خارجہ نے چند روز قبل بیان دیا تھا کہ “پڑوسی ملک میں موجود جرائم پیشہ گروہ مسلسل سرحدی علاقوں کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں”۔
پاکستان نے بتایا کہ اس سلسلے میں چین اور تاجکستان کے ساتھ قریبی رابطہ اور سیکورٹی کوآرڈینیشن موجود ہے، جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر کے ذریعے بھی مشترکہ نگرانی جاری ہے۔
واشنگٹن کیس: افغان نژاد شدت پسندی کا عالمی پھیلاؤ
امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے ہاتھوں دو امریکی نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے پر بات کرتے ہوئے پاکستانی ترجمان نے کہا کہ امریکا اپنی تحقیقات خود کرے گا، تاہم یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ افغان نژاد شدت پسندی اب عالمی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
پاکستان نے ’سیزفائر‘ کی غلط تشریح بھی واضح کردی
کچھ حلقوں میں پھیلی اس غلط فہمی کی بھی وضاحت کی گئی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مبینہ “سیزفائر” کوئی روایتی جنگ بندی نہیں تھی بلکہ ایک غیر رسمی سمجھوتا تھا کہ افغان سرزمین سے ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج اور افغان شہری پاکستان میں حملے نہیں کریں گے۔
ترجمان نے کہا:
“یہ سمجھوتا مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ سیزفائر کا روایتی مطلب لینا غلط ہے، کیونکہ معاہدہ صرف افغان اسپانسرڈ دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق تھا۔ جب افغان شہری اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں حملے جاری رکھیں گے تو ہم کیسے پُرامید رہ سکتے ہیں؟”
تاہم دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز مکمل طور پر الرٹ اور تیار ہیں، اور تمام کارروائیاں ملکی آئین و قانون کے مطابق کی جاتی ہیں۔
مستقبل: بات چیت برقرار، مگر حقیقت پسندانہ فریم ورک ضروری
پاکستان نے تصدیق کی کہ وہ افغان عبوری حکومت سے بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ مکالمہ “حوصلہ افزا، حقیقت پر مبنی اور نتیجہ خیز” ہونا چاہیے، محض “بہروں کا مکالمہ” نہیں۔
ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی اب سرحدوں سے آگے بڑھ چکی ہے، اور پاکستان امریکہ سمیت تمام عالمی شراکت داروں کے ساتھ مختلف فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کر رہا ہے۔