سرحد پار سے پاکستان پر ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے ردِعمل میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے 46 شرپسندوں کی کابل کی عیدگاہ مسجد میں نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ ملکی سالمیت پر حملہ کرنے والوں کو ان کے محفوظ ٹھکانوں میں نشانہ بنانا دفاعِ وطن کا ناگزیر حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ کاروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب پاکستان کی سرحدی چوکیوں اور معصوم شہریوں پر پے در پے حملوں کے بعد پاکستانی فورسز نے اپنی ‘کمبیٹ پالیسی’ کے تحت جوابی قدم اٹھایا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین کو ڈھال بنا کر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا جواب دینا پاکستان کا قانونی اور دفاعی حق ہے۔
دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملہ
پاکستانی سیکیورٹی حکام کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان فضائی کاروائیوں کا ہدف صرف وہی ٹھکانے تھے جہاں سے پاکستان کے خلاف تخریب کاری کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ کابل میں جن 46 افراد کے جنازے اٹھائے گئے ہیں، رپورٹ کے مطابق یہ وہی شدت پسند عناصر تھے جو سرحد پار کاروائیوں کے بعد روپوش تھے اور اب انہیں ان کے ٹھکانوں میں کیفرِ کردار تک پہنچا دیا گیا ہے۔
کابل انتظامیہ کے لیے واضح پیغام
سیاسی و دفاعی مبصرین اس پیش رفت کو کابل کی عبوری حکومت کے لیے ایک سخت پیغام قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کابل انتظامیہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اسلام آباد نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
سکیورٹی ہائی الرٹ
نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد ہلاک شدگان کی میتوں کو سخت سکیورٹی میں تدفین کے لیے لے جایا گیا۔ اس موقع پر کابل میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہی۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ خطے میں امن کی ذمہ داری ان تمام قوتوں پر عائد ہوتی ہے جو شرپسندوں کو پناہ فراہم کرتی ہیں، اور پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے آئندہ بھی اسی طرح کے سخت اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔