مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے تناظر میں سعودی عرب نے پاکستان کو تیل کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے متبادل بحری راستے کی پیشکش کر دی ہے۔ یہ اہم پیش رفت وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کے درمیان ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات میں سامنے آئی ہے۔
ملاقات کے دوران سعودی سفیر نے وفاقی وزیر کو یقین دلایا کہ ان کا ملک کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب اپنی ‘یانبو بندرگاہ’ کے ذریعے پاکستان کو پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے تیار ہے، تاکہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم کر کے رسد کے عمل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور یہ تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے اس تعاون کو پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے راستے سے گزرتا ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں ترسیل کے راستے کی تبدیلی اور یانبو بندرگاہ کا انتخاب پاکستان کی توانائی سکیورٹی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس متبادل انتظام کے ذریعے پاکستان کو تیل کی ترسیل میں ترجیحی بنیادوں پر سہولت فراہم کی جائے گی۔
دوسری جانب عالمی منظرنامے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے کھلوانے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر نے بحری تجارت کو مالی تحفظ فراہم کرنے کے لیے انشورنس اور گارنٹیز دینے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکی نیوی کمرشل جہازوں کی حفاظت کرے گی۔ واضح رہے کہ ایران کے ساتھ جاری حالیہ تنازع نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور رسد کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں پر پڑ رہے ہیں۔