ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پہلی کارروائی میں ننگرہار کے علاقے میں واقع ایک بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

February 27, 2026

پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی پوزیشنز پر جوابی حملوں کے آغاز کے فوراً بعد قطر نے سفارتی سرگرمی تیز کی ہے۔ اس سے قبل بھی افغان طالبان کو بچانے کیلئے قطر متعدد بار سامنے آتا رہا ہے۔

February 27, 2026

سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان سے منسلک میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹے دعوے اور مبینہ جعلی ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ زمینی حقائق کو مسخ کیا جا سکے۔

February 26, 2026

سکیورٹی حکام کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان حکومت کی فورسز کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور دو طرفہ فائرنگ کا شدید تبادلہ جاری ہے۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں 12 افغان چوکیوں پر پاکستانی پرچم لہرانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

February 26, 2026

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گا اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز مکمل طور پر الرٹ ہیں اور سرحدی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

February 26, 2026

طالبان وزارتِ دفاع سے منسوب بیان کے مطابق پکتیا، نورستان، خوست اور ننگرہار سمیت سرحدی علاقوں میں پاکستانی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائیاں مبینہ طور پر “بار بار سرحدی خلاف ورزیوں” کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔

February 26, 2026

افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے: عاصم افتخار

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور پاکستان اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور پاکستان اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں داعش خراسان، القاعدہ، ٹی ٹی پی، بی ایل اے سمیت متعدد گروہوں کے کیمپ موجود ہیں جو سرحد پار حملوں اور خودکش کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں

December 11, 2025

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرے کا باعث ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتحال کو تفصیل سے بیان کیا۔

مستقل مندوب عاصم افتخار نے کونسل کے اراکین کو آگاہ کیا کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ نیز وہاں سے پھیلنے والی دہشت گردی کے نتائج ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان کے لیے شدید چیلنجز بنے ہوئے ہیں اور اس کے اثرات خطے سے باہر تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ داعش خراسان، القاعدہ، ٹی ٹی پی، ای ٹی آئی ایم، بی ایل اے اور مجاہدین بریگیڈ سمیت کئی دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں قائم کیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان میں درجنوں دہشت گرد تربیتی کیمپ موجود ہیں جو سرحد پار دراندازیوں اور خودکش حملوں جیسی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹی ٹی پی کے تقریباً چھ ہزار جنگجو افغانستان میں موجود ہیں اور طالبان کی صفوں میں شامل کچھ عناصر ان دہشت گرد گروہوں کو محفوظ راستہ فراہم کر رہے ہیں۔

عاصم افتخار نے خبردار کیا کہ ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ گروہ باہمی تعاون کر رہے ہیں جس میں تربیت، غیر قانونی اسلحہ کی تجارت، دہشت گردوں کو پناہ اور افغان سرزمین کو تربیتی مرکز کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف حملوں میں شامل ہیں۔

ایک واضح اشارہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک بدخواہ، موقع پرست اور عدم استحکام پیدا کرنے والا ملک پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کی مالی اور تکنیکی سرپرستی میں مزید سرگرم ہو گیا ہے۔ انہوں نے خطے میں ہلکے اور چھوٹے ہتھیاروں کی غیرقانونی منتقلی روکنے کے لیے کوششوں کو مزید مضبوط کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں اس بات کو واضح انداز میں بیان کیا کہ طالبان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اور قابل تصدیق کارروائی کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان اپنے شہریوں، اپنی سرزمین اور اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری دفاعی اقدامات کرنے کا پورا حق رکھتا ہے۔ انہوں نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں جنگ ختم ہو چکی ہے اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ افغان شہری باوقار، منظم اور مرحلہ وار انداز میں اپنے وطن واپس آسکیں گے۔

متعلقہ مضامین

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پہلی کارروائی میں ننگرہار کے علاقے میں واقع ایک بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

February 27, 2026

پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی پوزیشنز پر جوابی حملوں کے آغاز کے فوراً بعد قطر نے سفارتی سرگرمی تیز کی ہے۔ اس سے قبل بھی افغان طالبان کو بچانے کیلئے قطر متعدد بار سامنے آتا رہا ہے۔

February 27, 2026

سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان سے منسلک میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹے دعوے اور مبینہ جعلی ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ زمینی حقائق کو مسخ کیا جا سکے۔

February 26, 2026

سکیورٹی حکام کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں طالبان حکومت کی فورسز کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے اور دو طرفہ فائرنگ کا شدید تبادلہ جاری ہے۔ بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں 12 افغان چوکیوں پر پاکستانی پرچم لہرانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

February 26, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *